India

سوال # 169623

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں مسجد کی دائیں جانب کا آخری حصہ مکتب کے نام سے وقف ہے اور اس کے اوپر بیت الخلا بنا ہوا ہے مسجد کی صفیں اس حصہ تک بچھائی جاتی ہیں تو کچھ لوگ اس حصہ میں نماز با جماعت یا بلا جماعت ادا کر لیتے ہیں تو کیا ان کی نمازیں درست ہو جا ئے گی ؟اور ان کو مسجد کا ثواب ملے گایا نہیں؟
مدلل جواب مطلوب ہے نیز مسجد کی توسیع میں اس حصہ کو شامل کرنا اور اوپر کے حصہ کو علی حالہ باقی رکھنا اور نیچے اس حصہ کو جہاں بیت الخلا ہے علامت لگا کر چھوڑ دینا درست ہے یا نہیں؟

Published on: May 2, 2019

جواب # 169623

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:708-664/sn=8/1440



(1،2) نماز تو اس حصے میں بہرحال درست ہوجائے گی، اگر صفیں وہاں تک مسلسل ہیں اور مسجد میں جگہ نہ ہونے پر وہاں سے کوئی شخص امام کی اقتدا کرلے تو اسے مسجد کا ثواب بھی ملے گا۔(3) اگر فی الواقع وہ جگہ مکتب کے لئے وقف ہے ،مسجد کے لئے نہیں توصورت مسئولہ میں اسے بہ وقت توسیع مسجد میں شامل کرنا شرعا جائز نہیں ہے، توسیعِ مسجد کے لئے کوئی اور صورت اختیار کی جائے۔



(ویمنع من الاقتداء) صف من النساء بلا حائل قدر ذراع أو ارتفاعہن قدر قامة الرجل مفتاح السعادة أو (طریق تجری فیہ عجلة) آلة یجرہا الثور (أو نہر تجری فیہ السفن) ولو زورقا ولو فی المسجد (أو خلاء) أی فضاء (فی الصحراء) أو فی مسجد کبیر جدا کمسجد القدس (یسع صفین) فأکثر إلا إذا اتصلت الصفوف فیصح مطلقا.(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/330،ط: زکریا)



البقعة الموقوفة علی جہة إذا بنی رجل فیہا بناء ووقفہا علی تلک الجہة یجوز بلا خلاف تبعا لہا، فإن وقفہا علی جہة أخری اختلفوا فی جوازہ والأصح أنہ لا یجوز کذا فی الغیاثیة.(الفتاوی الہندیة 2/ 362،ط: زکریا)



....قالوا مراعاة غرض الواقفین واجبة (رد المحتار علی الدر المختار6/665،ط: زکریا)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات