• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 29951

    عنوان: میرے والد نے میری بیٹی کو 1000/ کا پرائز بونڈ دیا اور وہ دس ہزار کا نکل آیا پھر اس کو ڈیفنس سرٹیکفیٹ میں جمع کروادیا جب نکالا تو رقم کسی کو دیدی بس دس ہزار بچے جس سے سونے کی چوڑیاں لے لی اور کچھ رقم الگ سے اس میں شامل کرلی۔ اب معلوم ہوا ہے کہ بونڈ ٹھیک نہیں ہے ، میں نے اپنی بہن کو جس کی شادی پر دینا چاہتی تھی جو یتم ہے ، کیا میں بغیر ثواب کی نیت سے اس کو یا مدرسہ وغیرہ میں دے سکتی ہوں یا اتنی رقم کسی کو دیدوں اور سونا پاس رکھ لو؟

    سوال: میرے والد نے میری بیٹی کو 1000/ کا پرائز بونڈ دیا اور وہ دس ہزار کا نکل آیا پھر اس کو ڈیفنس سرٹیکفیٹ میں جمع کروادیا جب نکالا تو رقم کسی کو دیدی بس دس ہزار بچے جس سے سونے کی چوڑیاں لے لی اور کچھ رقم الگ سے اس میں شامل کرلی۔ اب معلوم ہوا ہے کہ بونڈ ٹھیک نہیں ہے ، میں نے اپنی بہن کو جس کی شادی پر دینا چاہتی تھی جو یتم ہے ، کیا میں بغیر ثواب کی نیت سے اس کو یا مدرسہ وغیرہ میں دے سکتی ہوں یا اتنی رقم کسی کو دیدوں اور سونا پاس رکھ لو؟

    جواب نمبر: 2995101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل):369=275-3/1432

    پرائز بونڈ میں جو زائد 9000 کی رقم نکلی تھی اس کا لینا جائز نہیں تھا، خبیث طریقے سے حاصل مال کا حکم یہ ہے، اصل مالک کو لوٹادیا جائے؛ اس لیے آپ یہ کریں کہ زائد 9000 کی رقم پرائز بونڈ نکالنے والے کو لوٹادیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو بلانیت ثواب فقراء ومساکین وغیرہ پر صدقہ کردیں، اس رقم کو مدرسہ وغیرہ میں دینا جائز نہیں، روپے دے کر سونا اپنے پاس رکھ لینا درست ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند