• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 14687

    عنوان:

    مفتی صاحب فتوی آئی ڈی نمبر14187میں آپ نے فرمایا کہ جن لوگوں سے جتنا پیسہ لیا تھا ان کو واپس کریں۔ مگر پیسہ لینے کا طریقہ ایسا تھا کہ ان کشتیوں کے مالکوں سے چند لوگ مقرر تھے جو ان مالکوں سے پیسے لے کر کشتیوں کے نمبر میرے ابو اور اسٹاف کے دوسرے لوگوں کو دیتے تھے، وہ پیسے فی مہینہ تیس سے چالیس لاکھ بانٹتے۔جس میں سے دس لاکھ خود ماہی گیری کا وزیر لیتا ہے اور پھر دس لاکھ دوسرا کوئی بڑا لیتا ہے ۔ اور ہمارے ابو ایک چھوٹے آفیسر تھے اس لیے وہ تیس سے چالیس ہزار لیتے تھے۔ اب کب کس کشتی والے سے کتنا پیسہ لیا کسی کو پتہ نہیں۔اور ان کا کوئی ریکارڈ اب موجود نہیں۔ او رکشتیوں کے مالکوں سے تو دوسرے لوگ پیسے لیتے تھے اور خود ابو کو بھی نہیں پتہ کہ اس دوران کس قدر پیسے ابو کو ملے، یعنی سال میں چھ لاکھ ملے یا نو لاکھ ملے اور باقی سالوں میں پوری نوکری کے دوران کتنے پیسے ابو کو ملے؟ (۱)کیا گھر بیچ کر وہ پیسے صدقہ کر سکتے ہیں؟ (۲)کیا اندازے سے پیسے یعنی کتنی رقم رشوت کی ملی صدقہ کر سکتے ہیں؟ (۳)اگر جتنی رقم رشوت کی لی ہے اب اتنی رقم پاس موجود نہ ہو یعنی رشوت لی پچاس لاکھ کے قریب مگر اب پیسے تین لاکھ بھی نہ ہوں تو اب کیا کریں؟ برائے کرم میرے ابو کی اس مشکل کا کوئی حل بتائیں۔

    سوال:

    مفتی صاحب فتوی آئی ڈی نمبر14187میں آپ نے فرمایا کہ جن لوگوں سے جتنا پیسہ لیا تھا ان کو واپس کریں۔ مگر پیسہ لینے کا طریقہ ایسا تھا کہ ان کشتیوں کے مالکوں سے چند لوگ مقرر تھے جو ان مالکوں سے پیسے لے کر کشتیوں کے نمبر میرے ابو اور اسٹاف کے دوسرے لوگوں کو دیتے تھے، وہ پیسے فی مہینہ تیس سے چالیس لاکھ بانٹتے۔جس میں سے دس لاکھ خود ماہی گیری کا وزیر لیتا ہے اور پھر دس لاکھ دوسرا کوئی بڑا لیتا ہے ۔ اور ہمارے ابو ایک چھوٹے آفیسر تھے اس لیے وہ تیس سے چالیس ہزار لیتے تھے۔ اب کب کس کشتی والے سے کتنا پیسہ لیا کسی کو پتہ نہیں۔اور ان کا کوئی ریکارڈ اب موجود نہیں۔ او رکشتیوں کے مالکوں سے تو دوسرے لوگ پیسے لیتے تھے اور خود ابو کو بھی نہیں پتہ کہ اس دوران کس قدر پیسے ابو کو ملے، یعنی سال میں چھ لاکھ ملے یا نو لاکھ ملے اور باقی سالوں میں پوری نوکری کے دوران کتنے پیسے ابو کو ملے؟ (۱)کیا گھر بیچ کر وہ پیسے صدقہ کر سکتے ہیں؟ (۲)کیا اندازے سے پیسے یعنی کتنی رقم رشوت کی ملی صدقہ کر سکتے ہیں؟ (۳)اگر جتنی رقم رشوت کی لی ہے اب اتنی رقم پاس موجود نہ ہو یعنی رشوت لی پچاس لاکھ کے قریب مگر اب پیسے تین لاکھ بھی نہ ہوں تو اب کیا کریں؟ برائے کرم میرے ابو کی اس مشکل کا کوئی حل بتائیں۔

    جواب نمبر: 14687

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1623=1295/ھ

     

    (۱) ایسا بھی کرسکتے ہیں۔

    (۲) جتنی مقدار پر دل ٹھک جائے اس سے کچھ زائد مقدار صدقہ کرنے کی ٹھان لیں،اور حسب موقعہ جلد ازجلد جس قدر کرسکیں کرتے رہیں۔

    (۳) دیانةً فی ما بینکم وبین اللہ تعالیٰ جتنا کرسکتے ہوں، اتنا کریں اور جو کچھ باقی رہے اس کے معاملہ میں اللہ پاک سے کثرت کے ساتھ توبہ استغفار کرتے رہیں اور آئندہ جیسے جیسے مال آتا رہے اس میں صدقہ کرنے کا عمل جاری رکھیں، ایسا کرتے رہنے سے دنیا میں وبال اور آخرت میں عذاب سے حفاظت رہے گی،آپ اورآپ کے بھائی وغیرہ جو تعاوہ والد صاحب کا کرسکیں وہ بھی کرتے رہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند