• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 148203

    عنوان: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا مانگنا درست ہے؟

    سوال: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا مانگنا درست ہے؟

    جواب نمبر: 14820301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 318-426/sd=6/1438

     جی ہاں ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا مانگنا درست ہے؛ بلکہ دعا کی بعض کتابوں میں اس کو دعا کے آداب میں شمار کیا گیا ہے۔ عن عثمان بن أبي حنیف أن رجلاً ضریر البصر أتی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال: أدعوا اللّٰہ أن یعافیني، قال: إن شئت دعوت وإن شئت صبرت فہو خیر لک، قال: فادعہ، قال: فأمرہ أن یتوضأ فیحسن وضوء ہ ویدعو بہٰذہ الدعاء: ”اللّٰہم إني أسئلک وأتوجہ إلیہ بنبیک محمد نبي الرحمة إني توجہت بک إلی ربي في حاجتي ہٰذہ لتقضي لي، اللّٰہم فشفعہ في“ ہٰذا حدیث حسن صحیح۔ (سنن الترمذي ۲/۱۹۸، المعجم الکبیر ۹/۳۱، مسند امام احمد ۴/۱۳۸، مستدرک حاکم ۱/۷۰۱، المعجم الصغیر للطبراني رقم ۱۰۳) وبعد ہٰذا کلہ أنا لا أری بأسا في التوسل إلی اللّٰہ تعالیٰ بجاہ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم عند اللّٰہ تعالیٰ حیاً ومیتاً - إلی قولہ - وإن التوسل بجاہ غیر النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا بأس بہ أیضاً إن کان المتوسل بجاہہ مما علم أن لہ جاہاً عند اللّٰہ تعالیٰ کالمقطوع بصلاحہ وولایتہ۔ (روح المعاني ۴/۱۸۴) قال ابن تیمیة: نعم لو سأل اللّٰہ بایمانہ بمحد صلی اللّٰہ علی وسلم، وصحبتہ لہ، طاعتہ لہ، واتباعہ لہ، لکان قد سألہ بسبب عظیم یقتضي اجابة الدعاء؛ بل ہذا أعظم الأسباب والوسائل۔ (قاعدة جلیلیة في التوسل والوسیلة لابن تیمیة، ص: ۵۶) ذہب جمہور الفقہاء الما لکیة والشافعیة وممتأخرو الحنفیة وہو المذہب عبد الحنابلة الی جواز التوسل بالنبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم سواء في حیاتہ أو بعد وفاتہ۔ (الفتاوی الہندیة: ۵/۳۱۸) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند