India

سوال # 161690

حضرت مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے شوہر کو ڈاڑھی رکھنے پر واضح الفاظ میں اعتراض تو نہ کرے لیکن دیکھ کے یہ اندازہ ہو کہ اِسے کسی قسم کی پرابلم ہے اس سنت سے (حالانکہ اس نے زبان سے کچھ نہیں کہا)، تو اس پر کفر کا فتویٰ ہے؟ کیا وہ نکاح سے خارج ہو گئی؟
اور اگر ٹوپی پہننے کی عادت پرکسی درجے میں زبان سے کہہ دے ہر وقت اچھی نہیں لگتی اور ہر وقت نہ پہنا کرو تو کیا وہ نکاح سے نکل گئی؟ اگر اس طرح کوئی کفریہ عمل کرکے نکاح سے خارج ہو جائے تو دوبارہ اسی سے نکاح کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

Published on: May 22, 2018

جواب # 161690

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1074-985/M=9/1439



صورت مسئولہ میں عورت کے مذکورہ طرز کی وجہ سے اُس پر کفر کا حکم نہیں اور نہ وہ نکاح سے باہر ہوئی لیکن کسی سنت سے کدورت محسوس کرنا بہرحال سخت امر ہے ہر مسلمان کو اس سے بچنا چاہئے۔ اگر کبھی کوئی کفر یہ عمل سرزد ہو جائے تو فوراً توبہ استغفار کرکے تجدید ایمان کرے اور شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح بھی کرلے۔ تجدید نکاح کا طریقہ وہی ہے جو ابتداءً نکاح کا ہے یعنی شرعی گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کیا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات