• معاشرت >> لباس و وضع قطع

    سوال نمبر: 9073

    عنوان:

    میں نے آج ایک حدیث سنی جس کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالی اس بندے کو پسند نہیں فرماتے جس کا پائجامہ ٹخنے کو چھپاتا ہو․․․میری مجبوری یہ ہے کہ میرے ٹخنوں پر سفید داغ ہیں جو مجھے بھدے لگتے ہیں اور میں نمازمیں اسی وجہ سے اپنی پینٹ سے ٹخنوں کو چھپاتا ہوں۔ اوریہ سفید داغ صرف میرے ٹخنوں پر ہی ہیں۔یا اگر میں باہر بھی ہوں تو بھی اپنے اس عیب کو اپنی پینٹ سے چھپاتا ہوں۔ میری تمنا ہے کہ میں اپنی پینٹ سنت طریقہ سے پہنوں لیکن میری مجبوری ہے۔ میرے پیروں پر سفید داغ جو ہمارے معاشرہ میں صحیح نہیں سمجھے جاتے ہیں نہ ہی وہ مجھے دیکھنے میں صحیح لگتے ہیں۔ اگر میں اپنی پینٹ ٹخنوں سے نیچے پہنتا ہوں تو یہ داغ چھپ جاتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اگر میں اس مجبوری کی وجہ سے نماز میں اپنے ٹخنے چھپاتا ہوں تو کیا یہ درست ہے؟

    سوال:

    میں نے آج ایک حدیث سنی جس کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالی اس بندے کو پسند نہیں فرماتے جس کا پائجامہ ٹخنے کو چھپاتا ہو․․․میری مجبوری یہ ہے کہ میرے ٹخنوں پر سفید داغ ہیں جو مجھے بھدے لگتے ہیں اور میں نمازمیں اسی وجہ سے اپنی پینٹ سے ٹخنوں کو چھپاتا ہوں۔ اوریہ سفید داغ صرف میرے ٹخنوں پر ہی ہیں۔یا اگر میں باہر بھی ہوں تو بھی اپنے اس عیب کو اپنی پینٹ سے چھپاتا ہوں۔ میری تمنا ہے کہ میں اپنی پینٹ سنت طریقہ سے پہنوں لیکن میری مجبوری ہے۔ میرے پیروں پر سفید داغ جو ہمارے معاشرہ میں صحیح نہیں سمجھے جاتے ہیں نہ ہی وہ مجھے دیکھنے میں صحیح لگتے ہیں۔ اگر میں اپنی پینٹ ٹخنوں سے نیچے پہنتا ہوں تو یہ داغ چھپ جاتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اگر میں اس مجبوری کی وجہ سے نماز میں اپنے ٹخنے چھپاتا ہوں تو کیا یہ درست ہے؟

    جواب نمبر: 9073

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1182=1182/ ل

     

    آپ اپنے ٹخنوں کے سفید داغ کو چھپانے کے لیے موزے پہن لیا کریں، محض داغ چھپانے کے لیے پینٹ کو ٹخنوں سے نیچے پہننا درست نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند