• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 164910

    عنوان: زكات ادا كرنے كے لیے الگ نكالی رقم كے بدلے اپنے پاس سے زكاۃ ادا كرنا؟

    سوال: اگر ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو زکاة کے پیسے دیئے کہ یہ کسی مستحق آدمی کو دیدينا اور وہ پیسہ گھر پر رکھ دیا اور پھر راستے میں کوئی زکاة کا مستحق آدمی ملا تو اس نے اپنے پیسوں سے پیسہ دیدیا تو اس ا ٓدمی کی زکاة ادا ہوجائے گی جس نے پیسے دیئے تھے؟

    جواب نمبر: 16491001-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1531-1292/D=12/1439

    اپنے پاس سے رقم مستحق کو دیتے وقت یہ نیت تھی کہ فلاں شخص کے زکات کی جو رقم گھر پر رکھی ہے اسی کے بدلے میں ادا کر رہا ہوں اور وہ رقم میں خود لے لوں گا، تو اس سے زکات ادا ہو جائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند