• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 608026

    عنوان:

    انتہائی منفی درجہ حرارت میں جنابت سے کیسے پاک ہوں

    سوال:

    جناب محترم میں بھوپال کا رہنے والا ہو سرکاری ملازم ہو نے کی وجہ سے میرا تبادلہ بھوپال سے لیہ (لداخ ) ہوگیا ہے - لداخ میں سردیوں کی رات میں منفی درجہ حرارت (-۱۵ سے -۳۰) اور دن میں بھی منفی حرارت رہتی ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ جنابت کی حالت میں ایسی انتہائی منفی درجہ حرارت میں فجر کی نماز سے قبل غسل کرنا نہ ممکن ہوتا ہے - مہربانی کرکے یہ بتائیں کہ شریعت میں کس طرح کی گنجائش ہے ؟

    جواب نمبر: 608026

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:549-468/L=5/1443

     کوشش کریں کہ پانی گرم لیا کریں ، اگر پانی گر م کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے اور نہ کوئی ایسی صورت ہے کہ غسل کرنے کے بعد بدن کو گرم کیا جاسکے اور ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے میں بیمار پڑجانے کا ظنِ غالب ہے ، تو اس صورت میں غسل نہ کرکے تیمم کرنے کی گنجائش ہوگی ۔

    (مستفاد از امداد الفتاوٰی جدید مطول حاشیہ 1/ 288 فتاوٰی دارالعلوم دیوبند 1/337 ) (أو برد) یہلک الجنب أو یمرضہ ولو فی المصر إذا لم تکن لہ أجرة حمامولا ما یدفئہ الدر المختار شرح تنویر الأبصار وجامع البحار (ص37):(قولہ یہلک الجنب أو یمرضہ) قید بالجنب؛ لأن المحدث لا یجوز لہ التیمم للبرد فی الصحیح خلافا لبعض المشایخ کما فی الخانیة والخلاصة وغیرہما. وفی المصفی أنہ بالإجماع علی الأصح، قال فی الفتح وکأنہ لعدم تحقیق ذلک فی الوضوء عادة. اہ. واستشکلہ الرملی بما صححہ فی الفتح وغیرہ فی مسألة المسح علی الخف من أنہ لو خاف سقوط رجلہ من البرد بعد مضی مدتہ یجوز لہ التیمم. قال: ولیس ہذا إلا تیمم المحدث لخوفہ علی عضوہ، فیتجہ ما فی الأسرار من اختیار قول بعض المشایخ.أقول: المختار فی مسألة الخف ہو المسح لا التیمم کما سیأتی فی محلہ - إن شاء اللہ تعالی - نعم مفاد التعلیل بعدم تحقیق الضرر فی الوضوء عادة أنہ لو تحقق جاز فیہ أیضا اتفاقا، ولذا مشی علیہ فی الإمداد؛ لأن الحرج مدفوع بالنص، ہو ظاہر إطلاق المتون (قولہ ولو فی العصر) أی خلافا لہما (قولہ ولا ما یدفئہ) أی من ثوب یلبسہ أو مکان یأویہ. قال فی البحر: فصار الأصل أنہ متی قدر علی الاغتسال بوجہ من الوجوہ لا یباح لہ التیمم إجماعا حاشیة ابن عابدین = رد المحتار ط الحلبی (1/ 234)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند