• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 2612

    عنوان:

    رمضان کے مہینہ میں یہاں پر لوگ اکثر مسجد وں میں ۸/ رکعات ترایح اداکرتے ہیں، اور تراویح میں قرآن ہاتھ میں لے کر دیکھ کر پڑھتے ہیں، اس بار ے میں کیا مسئلہ ہے ؟ میں اتنے سال انڈیا میں رہا ، میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ لوگ قرآن کو دیکھ کر نہیں پڑھتے ہیں، یہاں پر اورلوگ ۲۰/ رکعات ادارکر تے ہیں۔ یہاں یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ یہ کیا مسئلہ ہے ؟ جب کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں لوگ ۲۰/ رکعات ادار کرتے ہیں۔ براہ کرم، اس مسئلہ کا جواب دیں۔

    سوال:

    رمضان کے مہینہ میں یہاں پر لوگ اکثر مسجد وں میں ۸/ رکعات ترایح اداکرتے ہیں، اور تراویح میں قرآن ہاتھ میں لے کر دیکھ کر پڑھتے ہیں، اس بار ے میں کیا مسئلہ ہے ؟ میں اتنے سال انڈیا میں رہا ، میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ لوگ قرآن کو دیکھ کر نہیں پڑھتے ہیں، یہاں پر اورلوگ ۲۰/ رکعات ادارکر تے ہیں۔ یہاں یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ یہ کیا مسئلہ ہے ؟ جب کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں لوگ ۲۰/ رکعات ادار کرتے ہیں۔ براہ کرم، اس مسئلہ کا جواب دیں۔

    جواب نمبر: 2612

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 14/ د= 14/ د

     

    تراویح کی نماز بیس رکعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پورے رمضان میں علاوہ تہجد کے بیس رکعت تراویح پڑھنے کا انفراداً معمول تھا۔ چند روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کے ساتھ بھی ادا فرمائی ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں تمام صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم کا اس پر اتفاق ہے واجماع ہوا ہے اور یہی بیس رکعت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ و دیگر فقہا کا مذہب ہے۔ لہٰذا آپ بیس رکعت ہی پڑھا کریں، اگر مسجد میں بیس نہ ہوتی ہوں تو جہاں بیس رکعت پڑھی جاتی ہے وہاں جاکر شریک ہوجائیں یا بقیہ رکعتیں تنہا پڑھ لیا کریں۔

    نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا درست نہیں ہے، ورق پلٹنے میں کبھی عمل کثیر ہوجائے گا تو نماز ہی فاسد ہوجائے گی اس لیے آپ ایسے امام کے پیچھے نماز ادا کریں جو حفظ سے پڑھتا ہو۔ البتہ شوافع کے یہاں نماز میں دیکھ کر پڑھنا جائز ہے، اس لیے شوافع کی نماز ان کے مسلک میں درست ہوجائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند