• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 53261

    عنوان: اگر کسی کا والد غلام ہو جو پہلے دورمیں ہوتے تھے تواس کے بچے بھی غلام ہوں گے اور غلام جس کا غلام ہے اس کے بغیر پوچھے حج کرسکتے ہیں اور جائداد بنا سکتے ہیں؟

    سوال: اگر کسی کا والد غلام ہو جو پہلے دورمیں ہوتے تھے تواس کے بچے بھی غلام ہوں گے اور غلام جس کا غلام ہے اس کے بغیر پوچھے حج کرسکتے ہیں اور جائداد بنا سکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 53261

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1381-1155/D=12/1435-U غلامی (رقیت) میں اولاد ماں کے تابع ہوتی ہے، چنانچہ اگر کسی شرعی غلام نے آزاد عورت (حرہ) سے شادی کی تو پیدا ہونے والے بچے آزاد ہوں گے، اور اگر باندی سے شادی کی تو لڑکا غلام ہوگا اور باندی کے مالک کی ملکیت ہوگا۔ اور اگر مالک نے خود اپنی باندی سے ہمبستری کی جس کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہوا اور مالک اس بچہ کو اپنا مان رہا ہے تو بچہ آزاد اور مالک کے مرنے کے بعد یہ بھی آزاد ہوجائے گا۔ ”قال في الدر والولد یتبع الأم فيالملک والرق والحریة (ج۳/۱۳) وقال أیضا ولد الأمة من زوجہا ملک لسیدہا تبعا لہا وولدہا من مولدہا حر (۳/۱۵ الدر مع الرد) (۲) حج کرنے کے لیے مالی استطاعت ضروری ہے اور غلام خود کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا، البتہ اگر اس کے مالک نے کاروبار کرنے کی اجازت دیدی ہے تو اس کے ہاتھ میں سرمایہ (مال) آئے گا، مگر یہ سب مولیٰ کی ملکیت ہوگا، اس کا خود کچھ نہ ہوگا، پس اگر مولیٰ حج کے لیے جانے کی اجازت دے اور رقم خرچ کرنے کی اجات دے تو جاسکتا ہے، اس کا حج نفل ہوگا کیونکہ اصل میں حج اس پر فرض نہیں ہے۔ ”قال في الدر ہو الحج فرض علی مسلم حر مکلف فلا یجب علی عبد․․․ لعدم أہلیة الملک الزاد والراحلة والمراد أھلیة الوجوب وإلا فالعبد أھل للأداء فیقع لہ نفلا․ (ج۲/۱۵۳) جو مکان جائیداد خریدے گا اگر مولی نے اجازت دی ہے تو (خریداری) صحیح ہوگی ورنہ نہیں اورخریدنے کے بعد یہ سب مولی کی ملکیت ہوگی، غلام اس کا مالک نہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند