• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 41999

    عنوان: دم كے سلسلے تنقیح مطلوب ہے

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ کیا دم واجب ہونے کی صورت میں احرام کھولنے سے پہلے ذبح کرنا ضروری ہے ؟ اگر کسی خاتون کو حیض کی وجہ سے دم واجب ہو جاتا اور واپسی کی تاریخ سے پہلے پاک نہ ہو تو کیا جائز ہے اس کے لئے کہ وہ حرم کے سلاٹر ہاؤس میں پیسے بھجوا دی قربانی کے ، اور احرام کھول دیا؟ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلّم نے حدیبیہ کے سال احرام کھولنے سے پہلے قربانی کی تھی یا بعد میں؟

    جواب نمبر: 41999

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1607-1607/M=12/1433 (۱) صورت مسئول عنہا میں آپ کے سوال کی تنقیح مطلوب ہے، حیض کی وجہ سے جو دم واجب ہوا ہے اس کی کیا صورت ہے؟ طواف کی وجہ سے ہے یا اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کی وجہ سے؟ اگر طواف سبب ہے تو وہ کونساطواف تھا؛ زیارت، قدوم، وداع وغیرہ؟ اور اس میں بھی حالت حیض میں بھی طواف کرنے کی وجہ سے دم واجب ہوا ہے یا طواف نہ کرنے کی وجہ سے واجب ہوا ہے؟ آپ کی جو بھی صورت ہو اس کی وضاحت مطلوب ہے، پھر جواب دیا جائے گا۔ (۲) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال پہلے قربانی کی تھی پھر احرام کھولا تھا۔ علامہ بدرالدین العینی لکھتے ہیں: النوع الثاني في سبب نزول ہذہ الآیة، ذکروا أن ہذہ الآیة نزلت في سنة ست أي عام الحدیبیة حین حال المشرکون بین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وبین الوصول إلی البیت وأنزل اللہ في ذلک سورة الفتح بکمالہا وأنزل لہم رخصة أن یذبحوا ما معہم من الہدي وکان سبعین بدنة وأن یتحللوا من إحرامہم فعند ذلک أمرہم علیہ السلام أن یذبحوا ما معہم من الہدي وأن یحلقوا روٴوسہم ویتحللوا فلم یفعلوا انتظارا للنسخ حتی خرج فحلق رأسہ ففعل الناس إلخ․ (عمدة القاري شرح البخاري: ۵/۳۷، ابواب المحصر وجزاء الصید)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند