عبادات - زکاة و صدقات

Palestinian Territory

سوال # 164996

کیا مجھ پر زکٰوة فرض ہے ؟ تفصیل: میں ایک تنخواة دار شخص ہوں۔ شادی شدہ ہوں اور ابھی اللہ پاک نے اولاد کی نعمت سے نہیں نوازا۔ کچھ عرصے پہلے تک میں الگ کرائے کے مکان میں رہتا تھا، لیکن فی الحال بوجہ والدہ کی بیماری اپنے والدین کے ساتھ ہوں۔ ایک دو سال میں جب چھوٹے بھائیوں کی شادی ہوجائے گی تو دوبارہ کرائے کے مکان میں منتقل ہوجاؤں گا۔ میری تنخواہ مناسب ہے ۔ ماہانہ کچھ پیسے بچ بھی جاتے ہیں۔ چند سالوں کی بچت کرکے میں نے اتنے پیسے جمع کرلیے ہیں کے اگلے سال حج پر مع اپنی اہلیہ کے جاؤں گا۔ ان شائاللہ۔ والدین پہلے ہی حج ادا کرچکے ہیں۔
میراسوال پوچھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ موجودہ صورتحا ل میں حقیقتا مجھے اپنے ذاتی مکان کی اشد ضرورت ہے ۔ اگرمیرے حالات اسی طرح رہے اور اس میں مزید بہتری آئی تو اللہ کے حکم سے میں آئندہ چند سالوں میں اپنا چھوٹا سا گھر خریدنے کا قابل ہوجاؤں گا۔ ان شائاللہ۔ کیا ایسی صورتحال میں مجھ پر حج فرض ہوچکا ہے جب کہ میری اپنا ذاتی گھر نہیں ہے ؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ۔

Published on: Sep 20, 2018

جواب # 164996

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1416-1306/M=1/1440



صورت مسئولہ میں اگر آپ کے پاس اتنے پیسے جمع ہوگئے ہیں جو چاندی کے نصاب (۶۱۳/ گرام چاندی) کی قیمت کے برابر ہیں اور وہ پیسے آپ کی حاجت اصلیہ سے زائد اور دین سے فارغ ہیں تو آپ پر زکات واجب ہے، سال پورا ہونے پر زکات کی ادائیگی لازم ہے اور اگر وہ پیسے اتنی مقدار میں ہیں کہ بآسانی حج کے لئے جاکر واپس آسکتے ہیں اور حج کا موسم شروع ہو جائے اورلوگ حج کے لئے روانہ ہونے لگیں تو آپ کے اوپر بھی حج میں جانا فرض ہو جائے گا چاہے آپ کے پاس ذاتی مکان نہ ہو۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات