• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 154893

    عنوان: صاحب نصاب عورت كا زكاۃ لینا

    سوال: کیافرماتے ہیں علماے ئے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک عورت ہے چند سال قبل اس کے شوہر کاانتقال ہوگیاتھااوراس کے کوئی کمانے والا بھی نہیں اور اس کے صرف لڑکیاں ہیں، اب لوگ اس کوصدقہ زکوة دیتے ہیں اوراس عورت کواس کی بیٹی کی شادی کے لئے لوگوں نے اتنے زیورات دیدئے کہ وہ زیورات نصاب کے بقدرپہنچ گئے اور اس عورت پر اتنے روپے بھی نہیں ہے کہ وہ ان کی زکوة نکال سکے ،اب اگر وہ ان زیورات میں سے کچھ بیچ کرزکوة نکالتی ہے توپھروہ زیورات کہاں سے لائیگی، تواب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ آیااس پہ زکوة واجب ہوگی یانہیں اورکیااس عورت کوزکوة دے سکتے ہیں یانہیں؟ مفتی صاحب دلائل کی روشنی میں مسئلہ کی مکمل وضاحت فرمادیں۔

    جواب نمبر: 154893

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:7-4/M=2/1439

    صورت مسئولہ میں جب مذکورہ عورت کی ملکیت میں اتنے زیورات ہوگئے ہیں کہ ان کی وجہ سے عورت صاحب نصاب بن چکی ہے تو اب اسی عورت کو زکاة دینا اور اس کا زکاة لینا جائز نہیں، اب خود اس عورت پر ان زیورات کی زکات نکالنا واجب ہے اگر زکاة کی ادائیگی کے لیے روپئے نہیں ہیں تو ان میں سے کوئی زیور بیچ کر زکاة نکالے سارے زیورات کو بیچنا ضروری نہیں، اور عورت آئندہ زکاة وصدقات واجبہ لینے سے احتراز کرے اگر عورت نے زیورات اپنی ملکیت سے نکال کر اپنی لڑکیوں کو دے کر مالک بنادیا ہو اور لڑکیاں بالغہ ہوں اور وہ صاحب نصاب ہوں تو خود ان لڑکیوں پر زکاة واجب ہوگی چاہے وہ لڑکیاں خود نکالیں یا ان کی طرف سے والدہ نکال دیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند