عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 147434

قضائے عمری کے وجوب کے ثبوت کے بارے میں تفصیل سے مع حوالہ جواب مر حمت فرمائیں؟

Published on: Jan 9, 2017

جواب # 147434

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 392-365/M=4/1438



اصول یہ ہے کہ ہروہ نماز جو کسی وقت میں واجب ہونے کے بعد چھوٹ گئی ہو اس کی قضا بہرحال لازم ہے چاہے انسان نے جان بوجھ کر چھوڑی ہو یا بھول کر اور چاہے نیند کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے اور چاہے چھوٹی ہوئی نمازیں کم ہوں یا زیادہ ،حدیث شریف میں ہے: من نسي صلاة فلیصلّ إذا ذکرہا لا کفارة لہا إلا ذلک (صحیح بخاری کتاب المواقیت) اور مسلم شریف میں ہے: إذا رقد أحدکم عن الصلاة أو غفل عنہا فلیصلہا إذا ذکرہا فإن اللہ عز وجل یقول: أقم الصلاة لذکري (صحیح مسلم آخر کتاب المساجد) اور البحر الرائق میں ہے: فالأصل فیہ أن کل صلاة فاتت عن الوقت بعد ثبوت وجوبہا فیہ فإنہ یلزم قضاوٴہا سواء ترکہا عمدًا أو سہوًا أو بسبب نوم وسواء کانت الفوائت قلیلة أو کثیرة (البحر الرائق: ۲/ ۱۴۱) مزید تفصیلی بحث اور دلائل کے لیے، دیکھئے فقہی مقالات حصہ ۴مقالہ بعنوان: قضائے عمری کی حقیقت)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات