عبادات - صلاة (نماز)

United Arab Emirates

سوال # 14183



میرا
سوال یہ ہے کہ ابھی جو موبائل ہے اس میں لوگ ننگی فوٹو اور ننگی فلم رکھتے ہیں اور
اسی کو جیب میں رکھ کر نماز پڑھتے ہیں کیا یہ جائز ہے او رنماز ہوجائے گی؟(
۲) جب امام کے پیچھے فرض نماز پڑھتے ہیں تو
مقتدی کو نماز ظہراور عصر میں امام صاحب جب دھیرے پڑھتے ہیں تو ہمیں الحمد او رکوئی
سورت پڑھنی چاہیے یا پھر جب امام صاحب زور سے پڑھتے ہیں جیسے کہ فجر میں مغرب میں
اور عشاء میں تو پڑھنا چاہیے یا نہیں؟ ایک اہم اور ضروری بات جب لوگ دولہا بنتے ہیں
تو پگڑ ی ہرے رنگ کے کپڑے کی باندھتے ہیں، کیا یہ ضروری ہے کہ یہ رنگ ہو اور سحرا
سجانا پھول کے ہار بازو وغیرہ میں باندھناکیسا ہے؟ مجھے مہربانی کرکے یہ بتائیں کہ
دولہے کا لباس کیا کیا ہونا ضروری ہے تفصیل سے ،کیوں کہ ہمارے ادھر بہت مسئلہ ہے
اس لیے میں چاہتاہوں کہ جو صحیح لباس ہے وہی استعمال کروں؟ اللہ آپ لوگوں کی پاکیزہ
زندگی میں برکت عطا فرمائے او رآپ لوگوں کی اللہ ہر طرح سے حفاظت فرمائے۔ ہمارے
دلوں میں آپ لوگوں کے لیے بہت احترام ہے آپ لوگوں کا امتپر بہت احسان ہے میں آپ کا
بہت احسان مند ہوں ۔



Published on: Jun 29, 2009

جواب # 14183

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی:
1130=1069/ب



 



(۱) موبائل کی اسکرین پر اگر وہ تصاویر نمایاں
ہوں تو اس کو لے کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اور اگر اسکرین پر نمایاں نہ ہوں
بلکہ اندر چھپی ہوئی ہوں تو پھر نماز درست ہوگی:
ولبس ثوب فیہ تصاویر ؛ لأنہ یشبہ حامل الصنم فیکرہ
وہذہ الکراہة تحریمیة (البحر الرائق:
۲/۴۸، کتاب الصلاة مطبوعہ زکریا دیوبند)



(۲) حنفیہ کے نزدیک امام کے پیچھے خواہ سری
نماز ہو یا جہری نماز، سورہٴ فاتحہ پڑھنا جائز نہیں:
لقولہ تعالیٰ: وَاِذَا قُرِئ الْقُرْآَنُ
فَاسْتَمِعُوْا لَہُ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (أعراف: آیت:
۲۰۴) لقولہ علیہ لاسلام: من کان لہ إمام فقراء ة
الإمام لہ قراء ة (الحدیث)

تفصیل
کے لیے اعلاء السنن ج:
۴، ص:۴۲ کا مطالعہ کرلیں۔



(۳) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عام حالات
میں عمامہ باندھنے کا معمول تھا، اور آپکے عمامے کا رنگ سیاہ ہوا کرتا تھا، خاص
طور پر نکاح کے دن عمامہ باندھنا ثابت نہیں، اس لیے اس کو ضروری نہ سمجھ کر اگر
دولہا عمامہ باندھ لے تو کوئی گناہ نہیں، ہاں اگر عمامہ نہ ملے تو ٹوپی پہن لینی
چاہیے، سہرا سجانا بازو میں پھولوں کا ہار باندھنا غیروں کا طریقہ ہے، اس سے
اجتناب کرنا چاہیے۔ آدمی کو عام حالات میں بھی ایسا لباس پہننا چاہیے جو موافق شرع
اور سنت کے مطابق ہو نکاح کے دن کی اس میں کوئی تخصیص نہیں، اور سنتی لباس وہ ہوتا
ہے جس کو ہرزمانے کے علماء صلحاء پسند کرتے ہوں اور اس کو پہنتے ہوں۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات