• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 28807

    عنوان: میر عمر 62/ سال ہے ۔ تیس سال سے زیادہ میری نماز اور روزے قضا ہوگئے ہیں، کیا مرنے سے قبل ان نمازوں اور روزوں کی ادائیگی ضروری ہے؟اگر آپ کا جواب مثبت میں ہے تو اس سلسلے میں حدیث کا حوالہ دیں کہ کہ ان نمازوں اور روزوں کی ادائیگی ضروری ہے۔اس بارے میں آپ کے فتوی کی سخت ضرورت ہے؟

    سوال: میر عمر 62/ سال ہے ۔ تیس سال سے زیادہ میری نماز اور روزے قضا ہوگئے ہیں، کیا مرنے سے قبل ان نمازوں اور روزوں کی ادائیگی ضروری ہے؟اگر آپ کا جواب مثبت میں ہے تو اس سلسلے میں حدیث کا حوالہ دیں کہ کہ ان نمازوں اور روزوں کی ادائیگی ضروری ہے۔اس بارے میں آپ کے فتوی کی سخت ضرورت ہے؟

    جواب نمبر: 28807

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 170=66-2/1432

    جی ہاں ان نمازوں اور روزوں کی قضا واجب اور ضروری ہے، بدیہی اور ظاہر بات ہے کہ فریضہ عائد ہونے کے بعد یا تو اَدا کرنے سے وہ ساقط ہوگا یا حاکم کے معاف کرنے سے اور حاکم نے معاف نہیں کیا تو فریضہ ذمہ میں واجب برقرار رہا اوقاتِ مقررہ پر ادا نہ کرنے کا گناہ مزید ہوگا۔ روزہ کے سلسلہ میں قرآن میں ہدایت ہے کہ ﴿فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ اَیَّامٍ اُخَرَ﴾ یعنی جو بیماری یا سفر کے وقت سے مقررہ وقت میں روزہ نہ رکھ سکے تو دوسرے دنوں میں اس کی قضا کرلے۔ نیز حدیث میں ارشاد ہے: إذا نسي أحدکم صلاة أو نام عنہا فلیصلہا إذا ذکرہا (مشکاة: ۶۱) عذر کی وجہ سے چھوٹ جانے کی صورت میں جب قضاء واجب ہے تو بلاعُذر کی صورت میں بدرجہ اولیٰ واجب ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلة التعریس میں فجر کی نماز قضا ہوجانے پر اور غزوہٴ خندق کے موقعہ پر چار وقت کی نمازیں قضا ہوجانے پر بعد میں ان کی ادائیگی فرمائی تھی۔ 


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند