متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 2653

میں فتوی آئی ڈی ۱۷۱۸/ کے بارے میں مزید تفصیلات جاننا چاہتاہوں، اس فتوی میں آپ نے کہاہے کہ سی ڈی اور ڈی وی ڈی اور الیکٹرونک اجزاء کا بیچنا جائزہے ، لیکن آپ نے ٹی وی کے بارے میں کچھ نہیں کہاہے جب کہ یہ عام اورضروری الیکٹرونک مشین ہے، اس کا استعمال جائز اور ناجائزدونوں میں ہوتاہے۔ ٹی وی بیچنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ الحمدللہ میں خدا ترس انسان ہوں اور شریعت پر ایمان رکھتاہوں۔براہ کرم، تفصیل سے جواب دیں۔ اس میدان میں میرے لیے ایک بڑا موقع ہے۔

Published on: Jan 27, 2008

جواب # 2653

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 18/ ل= 18/ ل


 


ٹی وی آج کل لہو ولعب اور گانے بجانے کا آلہ ہوچکا ہے، اس لیے اس کی بیع ناجائز ہے وقدمنا ثمہ معزیاً للنھر أن ما قامت المعصیة بعینہ یکرہ بیعہ تحریماً وإلا فتنزیھا (الدر المختار مع الشامي: ج۹ ص۵۶۱، زکریا دیوبند)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات