India

سوال # 164243

میرا بیٹا جس کا نام محمد عمر خالد ہے، جو بارہویں کلاس میں پڑھ رہا ہے۔ پچھلے پانچ چھ مہینوں سے بہت نافرمان ہوگیا ہے۔ ماں باپ کی بات نہ سننا، نماز میں قرآن کی تلاوت اور ذکر میں دلچسپی نہ لینا، باہر دیر تک جانا، پڑھائی میں دلچسپی نہ لینا اور دوستوں میں گھومنا وغیرہ۔ پہلے تین دن کی جماعت میں بھی جاتا تھا، اب نہیں جا رہا ہے۔
میں نے یہاں کے علماء اور مفتیان کرام سے مشورہ کیا۔ ان لوگوں نے مجھے کچھ اذکار اور قرآن کی کچھ آیات بتائیں اور وظیفہ بھی بتایا۔ سب کچھ کر چکا ہوں مگر فائدہ نہیں ہوا۔
میرا یہ سوال ہے کہ کیا میرے بیٹے کو والدین کے قابو میں کرنے کے لئے کچھ تعویذ یا پلیتے استعمال کرسکتے ہیں کیا؟

Published on: Sep 8, 2018

جواب # 164243

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1241-140T/N=12/1439



جی ہاں! بیٹے کی نافرمانی وسرکشی دور کرنے کے لیے تعویذات اور فلیتوں کا استعمال جائز ہے بہ شرطیکہ تعویذ اور فلیتوں میں جائز دعائیں ہوں، نیز تعویذ اور فلیتوں کے استعمال میں بھی کوئی ناجائز کام نہ کیا جائے اورماں باپ کی اطاعت وفرماں برداری کے لیے تعویذ اور فلیتوں کے ذریعے بیٹے کے ذہن ودماغ کو ماوٴف نہ کیا جائے۔



اور اگر آپ اور آپ کی اہلیہ بیٹے کو نرمی ومحبت اور شفقت کے ساتھ سمجھائیں اور گھر میں کسی دینی کتاب کی تعلیم کا معمول بنائیں اور آپ دونوں خود بھی نماز، روزے کے پابند اور دین دار بننے کی کوشش کریں اور اللہ تعالی سے دعا کریں تو یہ زیادہ مفید و موٴثر ہوگا إن شاء اللہ تعالی۔



عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ رضي اللّٰہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یعلمہم من الفزع کلمات: أعوذ باللّٰہ بکلمات اللّٰہ التامة من غضبہ وشر عبادہ، ومن ہمزات الشیاطین وأن یحضرون، وکان عبد اللّٰہ بن عمرو رضي اللّٰہ عنہما یعلمہن من عقل من بنیہ، ومن لم یعقل کتبہ فأعلقہ علیہ (سنن أبي داود، کتاب الطب، باب کیف الرقی، ص: ۵۴۳، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، وقد جاء في بعض الأحادیث جواز الرقي، وفي بعضہا النہي عنہا، فمن الجواز قولہ علیہ السلام: استرقوا لہا فإن بہا النظرة أي أطلبوا لہا من یرقیہا ومن النہي قولہ لا یسترقون ولا یکتوون، والأحادیث في القسمین کثیرة، ووجہ الجمع بینہما أن الرقي یکرہ منہما ما کان بغیر اللسان العربي وبغیر أسماء اللّٰہ تعالیٰ وصفاتہ وکلامہ في کتبہ المنزلة وأن یعتقد أن الرقیة نافعة لا محالة فیتکل علیہا وإیاہا (عمدة القاري، ۲۱: ۲۶۲، ط: دار الکتب العلمیہ بیروت)، ولا بأس بالمعاذات إذا کتب فیہا القرآن، أو أسماء اللّٰہ تعالی، … وإنما تکرہ العوذة إذا کانت بغیر لسان العرب، ولا یدري ما ہو، ولعلہ یدخلہ سحر أو کفر أو غیر ذٰلک، وأما ما کان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس بہ (رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، فصل في اللبس ۹: ۵۲۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند نقلاً عن المجتبی)، وأما ما کان من الآیات القرآنیة والأسماء والصفات الربانیة والدعوات المأثورة النبویة فلا بأس؛ بل یستحب، سواء کان تعویذًا أو رقیةً أو نشرةً، وأما علی لغة العبرانیة ونحوہا فیمتنع لاحتمال الشرک فیہا (مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح، ۸: ۳۶۰، ۳۶۱، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات