عنوان: میری پہلی بیوی کے انتقال کے بعد میں نے ایک بیوہ سے شادی کی ہے جس کے پہلے شوہر سے تین بچے ہیں۔ اب یہ تینوں یتیم بچے (دو لڑکیاں اور ایک لڑکا) میری کفالت میں ہیں۔ کیا میں اپنی زکوة کی رقم ان کی پرورش وغیرہ میں خرچ کرسکتا ہوں؟ ان کی سالانہ پروش وغیرہ کے اخراجات میری زکوة کی رقم جو کہ میں نے شمار کی ہے اس سے زیادہ ہیں؟
سوال: میری پہلی بیوی کے انتقال کے بعد میں نے ایک بیوہ سے شادی کی ہے جس کے پہلے شوہر سے تین بچے ہیں۔ اب یہ تینوں یتیم بچے (دو لڑکیاں اور ایک لڑکا) میری کفالت میں ہیں۔ کیا میں اپنی زکوة کی رقم ان کی پرورش وغیرہ میں خرچ کرسکتا ہوں؟ ان کی سالانہ پروش وغیرہ کے اخراجات میری زکوة کی رقم جو کہ میں نے شمار کی ہے اس سے زیادہ ہیں؟
جواب نمبر: 2287901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م):940=940-6/1431
اگر وہ تینوں یتیم بچے غریب اور مستحق زکاة ہیں یعنی سادات میں سے نہیں ہیں، تو آپ اپنی زکاة ان کو دے سکتے ہیں، اور چونکہ وہ آپ کی کفالت میں ہیں تو بحیثیت سرپرست آپ زکاة کی رقم ان کے ضروری اخراجات میں خود صرف کرسکتے ہیں۔