• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 609018

    عنوان:

    جس کو زکات دی گئی ہے وہ اگر کچھ ہدیہ وغیرہ دے تو کیا حکم ہے ؟

    سوال:

    میں زکاة کا پیسہ اپنے ایک ضرورتمند رشتے دار کو دیتا ہوں، اگر ان پیسہ سے وہ رشتے دار میرے لیے کوئی کام کر دیتا ہے یہ مجھے کو ہدیہ دیتا ہے اور میں یہ اچھے سے جانتا ہوں کہ یہ یونہیں زکاة کے پیسے کا ہے تو میرے لیے ان کے لیے لینا کیسا ہوگا؟

    جواب نمبر: 609018

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:522-374/B-Mulhaqa=6/1443

     جب آپ نے زکات کی نیت سے مستحق رشتے دار کو رقم دے دی تو وہ اس کا مالک ہوگیا، بعد میں اگر وہ اپنی طرف سے آپ کا کوئی کام کردیتا ہے یا آپ کو کوئی ہدیہ دیتا ہے توآپ کے لیے اسے لینا شرعا جائز ہے اگرچہ اس نے آپ کی دی ہوئی زکات کی رقم سے ہی خرید کر کیوں نہ دی ہو۔

    فإنہ من الأصول المقررة أن تبدل الملک قائم مقام تبدل الذات أخذا من قولہ صلی اللہ علیہ وسلم لبریرة ہی لک صدقة، ولنا ہدیة.[درر الحکام شرح غرر الأحکام 2/ 32، باب موت المکاتب وعجزہ، مطبوعة:میر محمد کتب خانہ ، آرام باغ، کراتشی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند