• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 38949

    عنوان: بجلی كی چوری کا کفارہ كیا ہے؟

    سوال: ایک بندہ جو کے بجلی چوری کرتا تھا اور اب اس نے پکی توبہ کر لی اور چوری کرنا بھی چھوڑ دی تو کیا اس کو چوری کی بجلی کی رقم حکومت کے خزانے میں پہنچانی ہو گی؟یا صرف توبہ سے کام چل جائے گا ؟ اور اگر حکومت کے خزانے میں اتنے پیسے پہنچانے ہوں گے تو اس کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے؟ اور رقم کا اندازہ کیسے لگائیں ؟

    جواب نمبر: 38949

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 994-819/B=6/1433 بجلی کی چوری کرنا قطعی چھوڑدے، اس پر صحیح طور پر نادم وشرمندہ ہو، حکومت کے خزانے میں اتنے پیسے پہنچانا ضروری ہے۔ اس کا طریقہ کار کوئی سرکاری آدمی ہی بتاسکتا ہے، بجلی کا بل سرکاری خزانے میں داخل کرکے اس کی رسید حاصل کرکے پھر اللہ تعالیٰ سے سچی پکی توبہ کرے اور آئندہ کے لیے یہ عہد کرے کہ اے اللہ میں آئندہ یہ گناہ کبھی نہیں کروں گا۔ اے اللہ مجھے معاف فرمادے، پھر ان شاء اللہ یہ گناہ معاف ہوجائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند