• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 151441

    عنوان: جن كو دعوت نہیں پہنچی كیا ان كو عذاب ہوگا؟

    سوال: زید یہ عقیدہ رکہتا ہے کہ جن لوگوں تک اسلام کا پیغام نہیں پہنچا یا اگر پہنچا تو غلط اسلام پہنچا تو ایسے لوگوں کو کفر اور شرک کے باوجود آخرت میں عذاب نہیں ہوگا، زید اس کے لئے سورہ نمبر ۱۷ آیت نمبر ۱۵ کو دلیل بناتا ہے ، کیا زید اہل سنت والجماعت سے خارج ہے ؟ کیا امام غزالی اور امام ابن تیمیہ کا بھی یہی عقیدہ تہا؟ برائے مہربانی ضرور جواب دیں۔

    جواب نمبر: 15144101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1070-1067/sn=10/1438

    (۱) یہ قرآن کریم سورہ: ۱۷ (اسراء) آیت: ۱۵․․․ وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُولًا کی تفسیر میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے تحریر فرمایا: اس آیت کی بنا پر بعض ائمہ فقہاء کے نزدیک ان لوگوں کے کفر کے باوجود کوئی عذاب نہیں ہوگا جن کے پاس کسی نبی اور رسول کی دعوت نہیں پہنچی اور بعض ائمہ کے نزدیک جو اسلامی عقائد عقل سے سمجھے جاسکتے ہیں مثلاً خدا کا وجود، اس کی توحید وغیرہ پس جو لوگ اس کے منکر ہوں گے ان کو کفر پر عذاب ہوگا اگرچہ ان کو کسی نبی ورسول کی دعوت نہ پہنچی ہو الخ (معارف القرآن ۵/۴۵۶، ط: زکریا) اس سے معلوم ہوا کہ زید جو بات کہہ رہا ہے اس سے ملتی جلتی بات دیگر ائمہ فقہاء نے بھی فرمائی ہیں اور اس آیت کی تفسیر میں اس بات کی گنجائش ہے؛ لہٰذا زید اس عقیدے کی وجہ سے اہل السنت والجماعت سے خارج نہ ہوگا۔

    (۲) ان دونوں بزرگوں کا کیا عقیدہ تھا ہمیں معلوم نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند