• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 150833

    عنوان: كیا قرآن كے علاوہ دیگر آسمانی كتابیں بھی كلام ہیں؟

    سوال: (۱) زید کہتا ہے کہ توریت ، زبور اور انجیل صرف آسمانی کتابیں ہیں اللہ کا کلام نہیں۔ (۲) کیا زید کا کہنا صحیح ہے؟ اگر صحیح نہیں تو کیا زید اسلام سے خارج ہو گیا ؟ اس نے توریت ، زبور اور انجیل کو اللہ کا کلام ہونے سے انکار کیا ہے۔

    جواب نمبر: 15083301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 849-809/N=8/1438

    (۱، ۲): تورات، زبور اور انجیل وغیرہ پچھلی آسمانی کتابیں صرف کتاب اللہ ہیں، کلام اللہ نہیں ہیں، کلام اللہ آسمانی کتابوں میں صرف قرآن کریم ہے ، صحیح اور حق بات یہی ہے جیسا کہ حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویرحمہ اللہ  نے فرمایا ہے ، اور مختصر دلائل حسب ذیل ہیں:

    (۱): قرآن وحدیث میں کہیں تورات ، زبور اور انجیل کو کلام اللہ نہیں کہا گیاہے؛بلکہ قرآن کریم میں انہیں کُتُب اور صُحُف فرمایا گیاہے: ” کُلٌّ آمن باللہ وملائکتہ وکتبہ“ (سورہٴ بقرہ، آیت:۲۸۵)”صحف إبراہیم وموسی“ (سورہٴ اعلی، آیت:۱۹)؛ جب کہ قرآن کریم کو متعدد جگہ کلام اللہ کہاگیاہے، چناں چہ: ”حتّی یسمع کلام اللہ“ (سورہٴ توبہ، آیت:۶)، یُریدون أن یبدلوا کلام اللہ (سورہٴ فتح، آیت:۱۵)، کتبِ سماویہ کی عبارتیں کلام اللہ نہیں ہیں، صرف ان کا مضمون من جانب اللہ ہے، ان کی حیثیت احادیث قدسیہ کی طرح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ جلّ شانہ کا حوالہ دے کر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے۔ وہ بعینہ کلام اللہ نہیں ہوتیں۔

    (۲) اللہ تعالیٰ نے کلام اللہ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے، جب کہ کتبِ سماویہ کی حفاظت کا اعلان نہیں فرمایا: ”إنّا نحن نزّلنا الذکر وإنا لہ لحٰفظون“ یہی وجہ ہے کہ وہ ہرقسم کے تغیرات سے پاک وصاف ہے، آج تک کلام اللہ میں ایک زیرو زبر کا بھی تغیر نہیں ہوا،؛ جب کہ کتبِ سماویہ میں اس قدر تغیرات ہوئے کہ آج کوئی کتاب اپنی اصل عبارت کے ساتھ محفوظ نہ رہی، یہ خود دلیل ہے کہ دیگرآسمانی کتابیں کلام اللہ نہیں ہیں۔ موجودہ دور میں یہودیوں کے سب سے بڑے پادری: موسی میمون نے بھی لکھا ہے کہ توریت اِملاء کرائی گئی ہے۔

    (۳)کلام اللہ مُعجز ہوتاہے، جبکہ کتبِ سماویہ مُعجز نہیں ہیں ، نیز کلام اللہ میں تحدّی پائی جاتی ہے، قرآن پاک میں اللہ نے شک کرنے والوں کوتحدّی فرمائی ہے، یعنی: انہیں چیلنج دیا ہے ”وإن کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فأتوا بسورة من مثلہ“ (سورہ بقرہ، آیت:)، کتبِ سماویہ کے بارے میں یہ اعجاز اور تحدّی نہیں ملتی، اس سے صاف پتہ چلتاہے کہ یہ کلام اللہ نہیں ہیں۔

    (۴) جس طرح اللہ کی ذات ازلی اور ابدی ہے، اسی طرح اللہ کی صفت بھی ازلی اور ابدی ہے، کلام اللہ بھی اللہ کی صفت ہے، یہ بھی ازلی اورابدی ہے، یعنی: ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، کبھی اس کو فنا لاحق نہ ہوگا، کتبِ سماویہ اگر کلام اللہ ہوتیں تو یہ کبھی فنا نہ ہوتیں، حالانکہ کتبِ سماویہ سب مٹ گئیں اور ناپید ہوگئیں، اس کے برخلاف قرآن کریم جب سے نازل ہوا ہے، آج تک من وعن موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا، اللہ کی ذات جس طرح ماوراء الوری ہے اسی طرح اللہ کا کلام بھی ماوراء الوری ہے ، قرآن کریم کی عبارت بلاشبہہ ماوراء الوری ہے؛ لیکن دیگر کتبِ سماویہ کی عبارت ماوراء الوری نہیں ہے۔ (تفصیل کے لیے درس قرآن کی سات مجلسیں، مجموعہ ملفوظات: شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیرحمہ اللہ  ملاحظہ فرمائیں)۔اور متاخرین اور دیگر بعض اہل علم کی کتابوں میں جو قرآن کریم کے علاوہ دیگر کتب سماویہ پر کلام اللہ کا اطلاق کیا گیا ہے، وہ مجاز پر محمول ہے ،حقیقت پر محمول نہیں ہے۔

    پس معلوم ہوا کہ زید کی بات صحیح ہے، اُس پر کفر یا ضلالت کا حکم نہیں لگایا جاسکتا ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند