عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 162629

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان اکرام درمیان اس مسئلہ کے کیاخسر اپنی بہو کو زکوٰة دے سکتا ہے ؟ براہ کرم، جواب دیں۔

Published on: Jul 8, 2018

جواب # 162629

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1064-902/N=10/1439



جی ہاں! اگر بہو (زیورات وغیرہ کی وجہ سے) صاحب نصاب نہ ہو، نیز سید خاندان سے بھی نہ ہو تو خسر اسے اپنی زکوة دے سکتا ہے؛ کیوں کہ خسر بہو کے درمیان ایسا رشتہ نہیں ہوتا کہ کوئی ایک دوسرے کو زکوة نہ دے سکے۔



قال اللہ تعالی: إنما الصدقت للفقراء والمساکین الآیة (سورة التوبة: ۶۰)، ولا إلی غني یملک قدر نصاب فارغ عن حاجتہ الأصلیة من أي مال کان الخ،……ولا إلی بنی ھاشم الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب المصرف، ۳: ۲۹۵-۲۹۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، یصرف المزکي إلی کلھم أو إلی بعضھم،…… ویشترط أن یکون الصرف تملیکا، …،لا یصرف إلی بناء نحو مسجد (المصدر السابق، ص:۲۹۱)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات