• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 55334

    عنوان: میری بیوی کے پاس تقریباً پانچ تولہ سونا ہے، لیکن نقدی وغیرہ نہیں ہے ، لیکن دہلی میں اس کے پاپاکا ایک گھر ہے جو تقریباً 3000000 سے زائد کا ہے، میری ساس نے ہم دونوں کے سامنے کہا ہے کہ دہلی والا گھر تم لے لینا اور ہم اس میں رہ بھی رہے ہیں تو کیا میری بیوی پر قربانی واجب ہے؟

    سوال: (۱) میری بیوی کے پاس تقریباً پانچ تولہ سونا ہے، لیکن نقدی وغیرہ نہیں ہے ، لیکن دہلی میں اس کے پاپاکا ایک گھر ہے جو تقریباً 3000000 سے زائد کا ہے، میری ساس نے ہم دونوں کے سامنے کہا ہے کہ دہلی والا گھر تم لے لینا اور ہم اس میں رہ بھی رہے ہیں تو کیا میری بیوی پر قربانی واجب ہے؟ (۲) دوسرا سوال یہ ہے کہ قربانی یا زکاة کے وجوب کے لیے شرائط کیا ہیں؟راہ کرم، نقد رقم کے حوالے سے بتائیں۔

    جواب نمبر: 55334

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1364-1361/N=11/1435-U (۱) اگر آپ کی بیوی کے پاس سونے کے ساتھ کچھ چاندی بھی ہے اگرچہ وہ بہت معمولی مقدار میں ہو مثلاً دو، چار گرام یا کچھ کرنسی ہے خواہ وہ ایک، دو روپے ہوں یا حوائج اصلیہ سے زائد کوئی سامان وغیرہ ہے اور اسی حالت میں ایام قربانی آجائیں تو اس پر قربانی واجب ہوگی؛ کیوں کہ درج بالا صورتوں میں چاندی کے نصاب کا اعتبار ہوگا جو یہاں مالیت کے اعتبار سے بخوبی پایا جارہا ہے۔ (۲) جس آدمی میں درج ذیل شرطیں پائی جائیں اس پر زکاة فرض ہوتی ہے: (۱) مسلمان ہونا (۲) عاقل ہونا (۳) بالغ ہونا (۴) آزاد ہونا، یعنی غلام یا باندی نہ ہو (۵) بقدر نصاب ایسے مال کا مالک ہونا جو نامی ہو، حوائج اصلیہ سے زائد ہو، دین سے فارغ ہو، اس پر ملکیت ملکیت تامہ ہو اور سال بھی گذرچکا ہو۔ اور مال نامی یہ ہیں: سونا، چاندی خواہ کسی شکل میں ہوں، کرنسی، سوائم (سال کا اکثر حصہ عام چراگاہوں میں چرنے والے اونٹ، گائے، اور مال تجارت، ان کے علاوہ بھینس وغیرہ) کسی اور مال میں زکاة واجب نہیں۔ اور سونے کا نصاب ۷۸/ گرام ۴۸۰/ ملی گرام اور چاندی کا نصاب ۶۱۲/ گرام ۳۶۰/ ملی گرام ہے، اور کرنسی اور مال تجارت دونوں میں سے کسی کے نصاب کو پہنچ جائیں اُن میں زکاة واجب ہوگی اور سوائم کے نصاب میں تفصیل ہے اور عام طور پر لوگوں کے پاس یہ نصاب پایا بھی نہیں جاتا۔ اور قربانی واجب ہونے کے لیے درج ذیل شرطیں ہیں: (۱) مسلمان ہونا (۲) آزاد ہونا، (۳) عاقل ہونا (۴) بالغ ہونا (۵) مقیم ہونا (۶) ایسے نصاب کا مالک ہونا جو دین سے فارغ ہو اور حوائج اصلیہ سے زائد ہو اور اس پر ملکیت ملکیت تامہ ہو البتہ اس نصاب کا نامی ہونا یا اس پر سال کا گذرجانا شرط نہیں پس اگر آدمی کے پاس حوائج اصلیہ سے زائد کوئی سامان وغیرہ ہے اور اس کی مالیت چاندی کے نصاب کے بقدر یا اس سے زائد ہے تو ایام قربانی میں اس پر قربانی واجب ہوگی۔ (۳) چاندی سونے کا ریٹ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے اس لیے ہم نے اوپرگرام اور ملی گرام کی شکل میں دونوں کے نصاب کی مقدار لکھ دی ہے، آپ جب رقم کی شکل میں اس کی مقدار جاننا چاہیں تو مارکیٹ سے اس کا ریٹ معلوم کرلیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند