عبادات - زکاة و صدقات

Inda

سوال # 158298

مفتی صاحب معلوم یہ کرنا ہے کہ ایسے مدرسہ میں زکوٰة کا پیسہ دینا جہاں بیرونی طالب علم نہ ہوں کیسا ہے ؟ نیز ایسے مدرسوں کے سفیر وں کی کسی دوسرے کے لئے رہبری کرنا کیسا ہے ؟

Published on: Feb 5, 2018

جواب # 158298

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 572-433/sn=5/1439



زکات کی رقم غریب مستحقینِ زکات مسلمان پر تملیکاً صرف کرنا ضروری ہے، جس مدرسہ میں بیرونی طلبہ نہ ہوں جن کے کھانے وغیرہ میں زکات کی رقم تملیکاً صرف کی جائے ایسے مدرسہ میں زکات کی رقم دینا شرعاً جائز نہیں ہے، اور جن مدارس کے بارے میں معلوم ہو کہ ان میں مصارفِ زکات طلبہ نہیں ہیں، ان کے سفیروں کو کسی زکات دہندہ شخص کی طرف رہنمائی بھی نہیں کرنی چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات