INDIA

سوال # 158178

میں ایک ڈاکٹر ہوں، میری عمر ۳۰/ سال ہے، میرے دو بچے ہیں۔ مجھے تھائرویڈ (Thyroid) کی پریشانی ہے جس کی وجہ سے میرے بال بہت گرنے لگے۔ اس سے پریشان ہوکر میں نے انہیں کٹوا دیا۔ میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہتی ہوں کہ میں کسی طرح کا میک اَپ یا فیشن وغیرہ نہیں کرتی ہوں اور میں نے کبھی ابرو (eyebrows) بھی نہیں بنوائی ہے، پریشانی میں پہلی دفعہ میں نے بال کٹوائے کیونکہ وہ بہت خراب ہو گئے تھے۔ بال کٹوا تو لیے مگر بعد میں بہت پچھتاوا ہوا، احساسِ گناہ ہوا تو رو رو کر اللہ سے معافی مانگی اور دوبارہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ بھی کیا کیونکہ کچھ وقت بعد سرجری اور تھائرویڈ (Surgery aur thyroid) کی وجہ سے بال اتنے ٹوٹے کہ سر دکھائی دینے لگا آگے سے۔ سب مذاق اُڑاتے ہیں بالوں کا، کوئی جادو کہتا ہے تو کوئی چوہیا کی پونچھ، بہت شرمندگی ہوتی ہے، ویسے تو ہر وقت سر ڈھکا ہوتا ہے پر نظر تو جاتی ہی ہے۔ خیال آتا ہے کہ کٹا دوں پر اللہ کا ڈر ایسا کرنے نہیں دیتا۔
مہربانی کرکے میری اصلاح فرمائیں کہ میں بال کٹوا سکتی ہوں یا نہیں؟ کیا یہ جائز ہے کہ کسی کام کو نہ کرنے کا اللہ سے وعدہ کیا اور پھر مجبوری میں ا سے کر لیا تو اس کا کیا گناہ ہے؟ میرے شوہر کو بھی میرے بال پسند نہیں ہیں، کیا میں صرف انہیں صحیح کرنے کے لیے سادہ (simple) طریقہ سے کٹوا سکتی ہوں؟ اس میں میری نیت فیشن کی بالکل نہیں ہے، کیونکہ میں سر نہیں کھولتی ہوں اور نہ ہی بے پردگی کرتی ہوں۔ مہربانی کر کے مجھے سب کچھ بتائیں کہ کن کن حالات میں بال کٹوائے جاسکتے ہیں اور کتنے؟ شکریہ

Published on: Feb 14, 2018

جواب # 158178

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 462-421/N=5/1439



(۱): آپ کی نیت اگرچہ فیشن کی نہیں ہے؛ لیکن ظاہر میں لوگ فیشن ہی سمجھیں گے، نیز جو بال باقی ہیں انھیں باقی رکھنے میں کوئی تکلیف وپریشانی تو ہے نہیں، صرف کچھ لوگ مذاق اڑاتے ہیں، جس کا حل یہ ہے کہ آپ سر پر دو پٹہ یا اسکارف کا اہتمام کریں کہ لوگوں کو آپ کا سر یا اس کے بال نظر ہی نہ آئیں؛ اس لیے صورت مسئولہ میں آپ باقی ماندہ بال ہرگز نہ کٹوائیں اور آپ صبر سے کام لیں اور اپنی بیماری کا علاج جاری رکھنے کے ساتھ صبح وشام ۴۲۱/ مرتبہ یَا سَلَامُ پڑھا کریں، إن شاء اللہ آپ کو شفا ہوگی۔ اللہ تعالی آپ کو صحت وشفا عطافرمائیں۔



(۲):عورتوں کے لیے سر کے بال کاٹنے کے سلسلہ میں درج ذیل تفصیل ہے:



اگر سر میں کوئی زخم وغیرہ ہو تو زخم اور اس کے آس پاس کے بال بہ قدر ضرورت کاٹ سکتے ہیں۔اسی طرح اگر سر کے بال بہت بڑے ہوجائیں اور عورت عمر دراز اور کمزور ہو کہ اس کے لیے استنجا خانہ میں بالوں کو سمیٹنا اور سنبھالنا مشکل ودشوار ہوتا ہو تووہ کولھے کے پاس کچھ بال کٹواسکتی ہے۔ نیز اگر بالوں کی نوک پھٹ جائے، جس سے ان کی بڑھوتری رک گئی ہو اور وہ بھدے معلوم ہوتے ہیں تو بالوں کی نوکیں کاٹ سکتے ہیں۔ان کے علاوہ دیگر عام حالات میں عورت کے لیے نہ بال منڈانا جائز ہے اور نہ بال کاٹ کر کم کرنا جائز ہے۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات