• معاشرت >> عورتوں کے مسائل

    سوال نمبر: 38150

    عنوان: بہو کا ساس اور سسرے کی خدمات

    سوال: میری عمر اب ۶۷ سال ہے اور میری بیوی مجھ سے دس سال چھوٹی ہے ہمارا ایک ہی بیٹا ہے۔ بیٹے کی شادی کے دو سال ہوگئے ہیں اور ان دو سالوں میں ہماری بہو گھر کا کوئی کام نہیں کرتی ہے بلکہ ساس ہی سب کچھ کرتی ہے۔ ہم نے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ لیکن اب ہماری بہو کہتی ہے کہ ساس سسرے کے ساتھ رہنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا اسلام میں فرض نہیں ہے۔ اس لئے میرا بیٹگا اور بہو ہم سے الگ الگ رہنا چاہتے ہیں۔ آپ بتائیں کہ اب ہمارے لئے کیا ہے؟ کیا بہو کا یہ کہنا درست ہے؟

    جواب نمبر: 38150

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 624-533/B=5/1433 بہو کو گھر کا کام کرنا اس کے اخلاقی فرائض میں سے ہے، ساس اور سسر بہو کے ماں باپ کے درجہ میں ہوجاتے ہیں، اس لیے بہو کو پورے شوق وذوق سے گھر کا کام کرنا چاہیے اور ثواب سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اگر بیٹا اور اس کی بیوی دونوں ماں باپ سے الگ رہنا چاہتے ہیں تو انھیں اجازت ہے، مگر بیٹے کے اوپر اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرنا فرض ہے اگر بیٹا انھیں راحت و آرام پہنچانے اور خدمت کرنے میں کوتاہی کرے گا اور ماں باپ کو تکلیف ہوگی تو بیٹے کے لیے دنیا وآخرت دونوں جگہ بربادی کا سامنا کرنا ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند