عبادات - طہارت

India

سوال # 146478

بیوی کے ساتھ سوتے وقت بغیر کسی ڈائریکٹ جنسی تعلق کے مگر ملاعبت کے بعد اور کبھی کبھی کسی عورت کے ساتھ بات چیت کرتے وقت (بغیر کسی جرک/جھٹکا، یا شہوت کے)عضو خاص سے کسی زور /طاقت کے بغیر ایک گاڑھا سفید سیال مادہ نکلتاہے،اس سے اندر کا کپڑا ناپاک ہوجاتاہے، تو ایسی صورت میں غسل کرنا ضروری ہے؟کیا نماز پڑھنے کے لیے صرف وضو کرسکتاہوں؟اور کیا کپڑا بدلنا چاہئے ؟

Published on: Jan 4, 2017

جواب # 146478

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 326-298/Sn=4/1438



 



بیوی کے ساتھ ملاعبت کے وقت جو مادہ نکلتا ہے بالعموم وہ ”مذی“ ہوتی ہے، ”مذی“ کی پہچان یہ ہے کہ وہ نسبةً پتلی، سفید اور شفاف ہوتی ہے اور عام طور پر اس کے بعد شہوت بڑھ جاتی ہے، یہ ناپاک ہوتی ہے؛ البتہ اس کے نکلنے سے صرف وضو ٹوٹتا ہے غسل لازم نہیں ہوتا؛ لہٰذا صورت مسئولہ میں یہ مادہ اگر ”مذی“ ہی ہے (جس کی پہچان اوپر گزرچکی ہے) تو آپ صرف وضو کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں، غسل کرنا ضروری نہیں ہے؛ البتہ بدن یا کپڑے کے جس حصے پر یہ ”مادہ“ لگے گا اگر اس کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی سے زیادہ ہو تو اسے دھونا ضروری ہے، بغیر دھوئے نماز پڑھنے سے نماز ادا نہ ہوگی؛ بلکہ اگر ہتھیلی کی گہرائی کی مقدار یا اس سے کم ہو تب بھی دھوکر ہی نماز پڑھنا چاہیے۔ البحر الرائق میں ہے: قولہ لا مذي․․․․ وہو ماء أبیض رقیق یخرج عند شہوة لا بشہوة ولا دفق ولا یعقبہ فتور وربما لا یحس بخروجہ إلخ (البحر الرائق ۱/ ۱۱۵، ط: زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات