• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 63159

    عنوان: معذور شرعی

    سوال: میں نے معذوری کے حوالے سے بہت سارے سوالات کئے ہیں ، لیکن مجھے اب بھی شبہ ہے، مجھے تقاطر بول کی شکایت ہے، اور میں معذور ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا میں استنجاء کے دوران عضو ٴ خاص کو دھونے کے بعد ٹیشو پیپر سے سکھا سکتاہوں؟ واضح رہے کہ میں معذور ہوں ، جب میں عضو ٴ خاص کو سکھانے کی کوشش کرتاہوں تو پانی اور پیشاب دونوں مل جاتے ہیں۔ (۲) میں چونکہ معذور ہوں اور استنجاء کے بعد مثال کے طورپر ٹیشو پیپر رکھتاہوں ، وضو کرتاہوں ، عصر کی نماز پڑھتاہوں اور پھر میں قرآن کی تلاوت کرتاہوں اور جب مغرب کا وقت ہوتاہے تو میں صرف وضو کرتاہوں تو کیا میری مغرب کی نماز ہوجائے گی؟

    جواب نمبر: 63159

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 274-285/Sn=4/1437-U پیشاب کرنے کے بعد آپ اولاً اچھی طرح استبراء کرلیں یعنی مٹی کے ڈھیلے یا ٹیشو پیپر کے ذریعے مقامِ استنجا کو خشک کرلیں اگرچہ تھوڑا سا وقت لگے، نیز بہتر ہے کہ استبرا کے دوران کھنکارلیں اور بدن کو حرکت دیدیں؛ تاکہ ”نالی“ سے پیشاب باہر آجائے، جب اطمینان ہوجائے کہ قطرہ ٹپکنا بند ہوگیا۔ تو عضو خاص کو پانی سے دھولیں، اس کے بعد بھی اگر قطرہ گرنے کا اندیشہ ہو تو ٹیشوپیپر رکھ سکتے ہیں؛ تاکہ قطرے کپڑے میں نہ لگے۔ (۲) (الف) اگر آپ شرعی معذور ہیں (یعنی آپ پر کوئی مکمل نماز کا وقت اس طرح گزرا کہ مسلسل قطرے آتے رہے، اتنا وقفہ بھی نہیں ملا کہ وضو کرکے نماز ادا کرسکیں نیز اس کے بعد بھی ہرنماز کے وقت کم از کم ایک بار یہ عارضہ رہا) تو حسب شرائط ہروقت کی نماز کے لیے اگ الگ وضو کرنا پڑے گا یعنی اگر عصر کا وقت داخل ہونے پر آپ نے ایک مرتبہ وضو کرکے عصر کی نماز ادا کی تو یہ وضو مغرب کا وقت دخل ہونے سے پہلے تک باقی رہے گا، اس دوران آپ اس وضو سے کوئی بھی عبادت کرسکتے ہیں، قطرہ آنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا؛ البتہ اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو پایا جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا، مغرب کا وقت داخل ہوتے ہی یہ وضو ٹوٹ جائے گا، مغرب کی نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا پڑے گا، سابق وضو سے مغرب کی نماز نہ ہوگی، اگر آپ ا وپر ذکر کردہ معنی کے اعتبار سے شرعی معذور نہیں ہیں تو ”معذور“ سے کیا مراد ہے، وضاحت کرکے دوبارہ سوال کریں۔ (ب) نماز کے وقت پہلے والد ٹیشو پیپر نکال کر نیا رکھ لیا کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند