عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 152065

(۱) حضرت ہمارے یہاں رمضان میں جب ختم تراویح ہوتی ہے تو اس رات لوگ مل کر کچھ کھانے وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں جس کے لیے وہ محلہ والوں سے پیسہ (چندہ) اکھٹے کرتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟
(۲) اگر بنا چندے کے کوئی اپنی طرف سے کردے تو کیا حکم ہے؟ اور سب سے اہم بات یہاں یہ ہے کہ اس وجہ سے مسجد میں بہت شور شرابا اور ہلہ گلہ ہوتا ہے، تو ایسے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
(۳) رمضان میں بہت سے لوگ نماز کے بعد وہیں لیٹ جاتے ہیں اور کئی بار پوری مسجد کا ہال کور (گھیر) کر لیتے ہیں اور مسجد کے پنکھے اور کئی بار اے سی (AC) بھی چلاتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟ جزاک اللہ

Published on: Jul 9, 2017

جواب # 152065

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1150-1116/M=10/1438



(۱،۲، ۳) ختم تراویح کے موقع پر لوگوں کا کچھ کھانے وغیرہ کا نظم کرنا جب کہ خرابیوں سے پاک ہو، ناجائز نہیں ہے؛ لیکن جب کہ اس عمل سے مسجد کی حرمت پامال ہوتی ہے تو اس سے احتراز لازم ہے، ختم کے موقع پر کچھ کھانے پینے کا انتظام لازم وضروری نہیں؛ لیکن مسجد کی تلویث اور مسجد میں ہنگامہ آرائی سے بچنا اہم ہے اور اگر اس نظم کے لیے جبریہ چندہ لیا جاتا ہو تو یہ اور بھی قبیح ہے، اگر کوئی شخص اپنی طرف سے خوش دلی سے نظم کرے اور مسجد کے ادب واحترام کا پورا خیال رکھے اور کوئی خرابی لازم نہ آئے تو مضائقہ نہیں، گنجائش ہے، مسجد عبادت گاہ ہے آرام گاہ نہیں، لہٰذا نماز کے بعد مسجد میں باضابطہ لیٹنے اور آرام کرنے کا ماحول نہیں بنانا چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات