عبادات - صلاة (نماز)

Afghanistan

سوال # 10622

السلام علیکم: وه ممالک جن میں دن اور رات کا تسلسل متناسب نهیں هے اور بعض اوطان میں لوگ عدم لیل یعنی عدم وقت العشاء میں مواجع هیں، تو اس صورت میں صوم و صلوات کیلۓ وقت کا چناؤ کیسے کریں گے. علماۓ بلدالحرام کا فتوی هیکه وه اپنے نزدیک ترین ملک سے اوقات کا قیاس کرسکتں هیں اور اسلامی فقه میں(شیخ عبدالله) آتا هیکه اجتهاد کیا جاۓ اور هر کوءی اپنے لیے وقت مقرر کرلے اور بعض نے کها هیکه جمع تقدیم اور جمع تأخیر پڑھ لیا جاۓ. اب مندرجه بالا فتوای پر عمل کرکے قران و حدیث کے اصول کو تو نهیں توڑ سکتیں (اقم الصواة لدلوک الشمس الی غسق الیل.....الآیه) (حدثنی جابر بن عبدالله "ض" ان النبی"ص" جاءه جبرائیل"ع" فقال له قم فصله.......الحدیث) تأسف کی بات یه هیکه مذکوره بالا فتاوی سے سامراج کے "تقسیم کرو اور حکومت کرو" اصول پر آسانی سے عمل کیا جا سکتا هے. جناب سے التماس هیکه اپنے فتوی سے هماری دلوں کو مطمئن اور ذهنوں کو منور کردیں. والسلام

Published on: Feb 17, 2009

جواب # 10622

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 207=198/ د


 


جی ہاں! جس قدر فاصلہ عام متوازن دنوں میں مغرب عشاء کے مابین ہوتا ہے اسی فصل سے عشاء کی نماز پڑھ لی جائے۔ اور قریبی ملک یاشہر کے اوقات کا لحاظ بھی کرسکتے ہیں کہ اس قریبی شہر میں جس وقت عشاء کی نماز ہوتی ہے، اسی وقت آپ بھی عشا پڑھ لیں اسی طرح کتب فقہ میں لکھا ہے اور حدیث دجال میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولکن اقدر وآلہ


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات