India

سوال # 145681

میں نے فقہ میں پڑھا ہے کہ لوگوں کا عالم کی پگڑی پہننا یا عالم کا لوگوں کی پگڑی پہننا مکروہ ہے۔ براہ کرم، وضاحت فرمائیں کہ پگڑی کا سائز کیا ہے؟ پگڑی کیسی ہونی چاہئے؟عام پگڑی عالم کی پگڑی سے کس طرح مختلف ہونی چاہئے؟

Published on: Jan 4, 2017

جواب # 145681

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 146-282/Sn=4/1438



 



(الف) آپ نے فقہ کی کس کتاب میں کیا پڑھا پوری تفصیل لکھتے تو اس پر غور کیا جاسکتا؛ باقی شراحِ حدیث نے ”من تشبہ بقوم فہو منہم“ کے تحت جو تشریح کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عام آدمی بھی اگر علماء صلحاء کا لباس (مثلاً قمیص، عمامہ) اختیار کرے تو یہ بھی شرعاً پسندیدہ اور باعث ثواب ہے بہ شرطے کہ مقصد عوام کو دھوکہ دینا نہ ہو، عالم اور عام آدمی کی پگڑی مختلف ہونی چاہیے اس کا ذکر ہمیں بسیار تلاش کے باوجود نہیں ملا؛ بلکہ اس کے برعکس ملا جیسا کہ اوپر تحریر کیا گیا، في المرقاة: ”من تشبہ بقوم“ أي شبہ نفسہ بالکفار مثلاً في اللباس وغیرہ أو بالفساق أو بأہل التصوّف والعلماء الأبرار، ”فہو منہم“ أي في الإثم والخیر قال الطیبي: ہذا عام في الخلق والحلق والشعار الخ (مرقاة المفاتیح، کتاب اللباس، ۸/ ۲۳۲، ط: فیصل پبکیشنز، دیوبند، یوپی)



(ب) شریعت میں پگڑی کی کوئی خاص ہیئت اور سائز (لمبائی، چوڑائی) متعین نہیں ہے، آدمی کسی بھی طرح کی پگڑی استعمال کرسکتا ہے بہ شرطے کہ وہ کسی خاص قوم (مثلاً سکھوں) کی پگڑی کے مشابہ نہ ہو؛ البتہ سفید عمامہ زیادہ پسندیدہ ہے، اسی طرح عمامہ میں ”شملہ“ لٹکانا بھی سنت اور پسندیدہ ہے۔ (فتاوی رحیمیہ، ۱۰۷/ ۱۵۵، ط: دارالاشاعت، نیز دیکھیں خصائل نبوی عمامہ کے فضائل ومسائل)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات