• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 67293

    عنوان: کیا علاج کے لیے زکاة دے سکتے ہیں؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں ایک شخص کو کینسر ہوا ہے اس کے علاج میں آپریشن کروانے کے لئے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے کا خرچ ہے اور اس شخص کے پاس اتنی رقم دستیاب نہیں ہے اور ہونا بھی ناممکن ہے کیونکہ ان کا کاروبار زیادہ بڑا نہیں ہے بس جو کمایا وہی کہالیا تو دریافت طلب یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کو علاج کروانے کے لئے زکوٰة دے سکتے ہیں یا نہیں؟

    جواب نمبر: 6729301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 973-956/N=10/1437 کینسر یا اس جیسے کسی اور مہنگے علاج والی بیماری کا مریض اگر مستحق زکوة ہو تو اسے زکوة دے سکتے ہیں، البتہ اسے بیماری کا علاج: آپریشن وغیرہ سے پہلے یک مشت بقدر نصاب یا اتنی زکوة نہ دی جائے کہ وہ شخص صاحب نصاب ہوجائے، یعنی: مستحق زکوة نہ رہے؛ کیوں کہ یہ مکروہ ہے ؛ بلکہ علاج: آپریشن وغیرہ کے بعد جب مستحق زکوة پر ڈاکٹر کی فیس اور اسپتال کا چارج وغیرہ دین ہوجائے یا فیس کا پیشگی مطالبہ کیا جائے تو دین یا پیشگی مطالبہ اور دیگر متعلقہ اخراجات کے بقدر نصاب یا اس سے زائد زکوة دی جائے، اس صورت میں نصاب کے بقدر یا اس سے زائد زکوة دینے میں کچھ حرج نہ ہوگا ۔ اور اگر کسی غریب کو صاحب نصاب ہوجانے کے بعد زکوة دی گئی تو زکوة لینے والے کے لیے زکوة لینا اور دینے والا کا دینا جائز نہ ہوگا؛ اس لیے اس کا خاص خیال رکھا جائے، قال محمد فی الأصل إذا أعطی من زکاتہ مأتي درہم أو ألف درہم إلی فقیر واحد، فإن کان علیہ دین مقدار ما دفع إلیہ، وفی الخانیة: أو یبقی دون المائتین،م : أو کان صاحب عیال یحتاج إلی الإنفاق علیہم فإنہ یجوز ولایکرہ، وإن لم یکن علیہ دین ولا صاحب عیال، فإنہ یجوز عند أصحابنا الثلاثة ویکرہ الخ (الفتاوی التاتار خانیة،کتاب الزکاة، الفصل الثامن ۲: ۲۲۱، ۲۲۲،ط: مکتبة زکریا دیوبند)،(وکرہ إعطاء فقیر نصابا ) أو أکثر (إلا إذا کان) المدفوع إلیہ (مدیوناً، أو)کان (صاحب عیال) بحیث (لو فرقہ علیہم لایخص کلا)، أو لا یفضل بعد دینہ (نصاب) فلا یکرہ فتح (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب المصرف ۳: ۳۰۳، ۳۰۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:(وکرہ إعطاء فقیر نصابا أو أکثر): ……دفع ما یکمل النصاب کدفع النصاب، قال فی النھر: والظاھر أنہ لا فرق بین کون النصاب نامیاً أو لا حتی لو أعطاہ عروضاً تبلغ نصاباً فکذلک ولا بین کونہ من النقود أو من الحیوانات الخ۔(رد المحتار)،وانظر مراقی الفلاح وحاشیتہ للطحطاوي (ص ۷۲۱، ۷۲۲، ط: دار الکتب العلمیة بیروت) أیضاً۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند