• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 67854

    عنوان: درمیان رمضان میں ہندوستان واپس آنے والے كے لیے یہاں اكتیسویں روزے كا شرعی حكم؟

    سوال: اگر کوئی شخص مکہ میں روزے شروع کرے اور سات روزہ کے بعد وہ ہندوستان آجائے تو ہندوستان میں ایک اور روزہ ہوگا اور اس طرح اکتیس روزے ہوسکتے ہیں تو اس کے لئے روزہ اور عید کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟

    جواب نمبر: 6785401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1066-1249/N=11/1437

    صورت مسئولہ میں سوال میں مذکور شخص ہندوستان واپسی کے بعد ہندوستان کے حساب سے روزہ اور عید کرے گا، یعنی: اگر ہندوستان میں ۲۹/ رمضان کو چاند نہیں ہوا تو وہ ۳۰/ کو روزہ رکھے گا اگرچہ سعودیہ کے حساب سے اس کے کل روزے اکتیس ہوجائیں (فتاوی عثمانی ۲: ۱۷۶، ۱۷۷، مطبوعہ: مکتبہ معارف القرآن کراچی، احسن الفتاوی ۴: ۴۳۳، مطبوعہ: ایچ، ایم سعید کمپنی، کراچی، کتاب المسائل ۲: ۱۳۴- ۱۳۶، ۱۳۸، مطبوعہ: فرید بک ڈپو، دہلی، وغیرہ ، فتاوی قاسمیہ ۱۱: ۴۱۶، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند، وغیرہ ) ؛ کیوں کہ فرضیت صوم کا موجب شھود الشھر ہے اور شھود الشھر ہر علاقے میں وہاں کا معتبر ہے، پس جب ہندوستان میں ابھی الشھر باقی ہے تو فرضیت صوم اس کے حق میں متحقق ہے (حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب بحوالہ: فتاوی عثمانی ۲: ۱۷۶) ، لو صام رائ ہلال رمضان واکمل العدة لم یفطر الا مع الامام لقولہ علیہ الصلاة والسلام: ”صومکم یوم تصومون وفطرکم یوم تفطرون“ ۔ رواہ الترمذی وغیرہ۔ والناس لم یفطروا فی مثل ہٰذا الیوم فوجب ان لا یفطر ( رد المحتار، أول کتاب الصوم ۳: ۳۵۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ، ) لو اکمل ہٰذا الرجل ثلاثین یوماً لم یفطر إلا مع الإمام (الفتاوی الھندیة ۱: ۱۹۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند، مجمع الأنھر ۱: ۲۳۸، ط: دار الکتب العلمیة بیروت) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند