• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 63971

    عنوان: چھ ہزار قضا نمازوں کا کفارہ

    سوال: گزارش ہے کہ میری عمر تقریباً 58 سال ہے ۔میری زندگی میں قضا نمازوں کی تعداد چھ ہزار ہے جن کو میں وقتاً فوقتاً ادا کرتا رہتا ہوں۔مختلف ہیلتھ پرابلم کی وجہ سے زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔ میں چاہتا ہوں کہ ان چھ ہزار نمازوں کا کفارہ ابھی ادا کردوں اور اس کے ساتھ ساتھ ان قضا نمازوں کو ادا بھی کرتا رہوں اور مرنے سے پہلے جتنی ہو سکے ادا کر دوں اگر ساری نمازیں ادا نہ کر سکوں تو ان کا کفارہ پہلے سے ادا کر دیا گیا ہو اورجو روپے کفارے کی مد میں اضافی ادا ہوجائیں وہ نفلی صدقہ ہوجائیں۔ دوسری صورت کہ مرنے سے پہلے بچی ہوئی قضا نمازوں کا کفارہ ادا کرنے کی وصیت کر جاوَں۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ وارث میری کفارے کی مد میں پیسے ادا کرنے کی وصیت پر عمل کر سکیں اور میں اُن کو اس امتحان میں بھی نہیں ڈالنا چاہتا جس میں وہ شاید پاس نہ ہو سکیں اور گناہ گار بنیں۔ برائے مہربانی بتائیں کہ کیا میرا اس طرح زندگی میں کفارادا کردینا اور بعد میں قضا نمازیں بھی پڑھتے رہنے جائز ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں آمین۔

    جواب نمبر: 6397101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 536-538/N=6/1437 زندگی میں نمازوں کا فدیہ ادا کرنا صحیح ومعتبر نہیں،فدیہ ادا نہ ہوگا؛بلکہ جو نمازیں رہ جائیں گی،ان کے فدیہ کی وصیت واجب وضروری رہے گی ؛لہٰذا آپ وصیت والی صورت ہی اختیار کریں،البتہ اطمینان کے لیے نماز وروزے کے پابند دوست واحباب میں سے دو چار لوگوں کو گواہ اور وصیت کی تنفیذ کا ذمہ دار بنادیں تاکہ وہ اپنی نگرانی میں آپ کے وارثین سے وصیت کی تنفیذ کرادیں ،اور اگر خدانخواستہ ان سب لوگوں نے کوتاہی کی ،لیکن آپ کا تہائی ترکہ تمام نمازوں کے فدیہ کے لیے کافی تھا تو آپ آخرت میں انشاء اللہ گنہگار نہ ہوں گے،البتہ آپ اپنی زندگی میں جو قضا نمازیں بآسانی ادا کرسکتے ہوں،انھیں ضرور اداکرلیں،ان میں کوتاہی نہ کریں، ولو فدی عن صلاتہ في مرضہ لا یصح الخ(در مختار مع شامی ۲: ۵۳۵، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)،وقولہ:”ولو فدی عن صلاتہ في مرضہ لا یصح “فی التاترخانیة عن التتمة:سئل الحسن بن علي فی الفدیةعن الصلاة في مرض الموت ھل تجوز؟ فقال: لا، وسئل أبو یوسف عن الشیخ الفاني ھل تجب علیہ الفدیة عن الصلوات کما تجب علیہ عن الصوم وھو حي؟ فقال: لا اھ وفی القنیة:ولا فدیة فی الصلاة حالة الحیاة بخلاف الصوم اھ۔الخ(شامی)،قولہ:” لا یصح“:فیجب علیہ الوصیة(حاشیة الطحطاوی علی الدر ۱: ۳۰۸، مطبوعہ: مکتبہ اتحاد دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند