• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 581

    عنوان:

    ٹورنٹو میں میری ایک شخص سے ملاقات ہوئی، اس کا دعوی تھا کہ فقہ حنفی میں نماز میں (ہاتھ باندھنے کی) سنت کا طریقہ غلط ہے۔ اس کے مطابق نماز کے دوران ہاتھ ناف کے نیچے نہیں ہونا چاہیے بلکہ سینہ پر ہونا چاہیے۔ از راہ کرم، حدیث کے حوالے سے جواب عنایت فرمائیں۔ اس کا کہنا تھا کہ شافعی ، مالکی اور حنبلی صحیح سنت طریقہ کی اتباع کرتے ہیں اور ہم (حنفی) غلط طریقے پر نماز ادا کرتے ہیں، اس کا کسی حدیث سے ثبوت نہیں ہے۔

    سوال:

    ٹورنٹو میں میری ایک شخص سے ملاقات ہوئی، اس کا دعوی تھا کہ فقہ حنفی میں نماز میں (ہاتھ باندھنے کی) سنت کا طریقہ غلط ہے۔ اس کے مطابق نماز کے دوران ہاتھ ناف کے نیچے نہیں ہونا چاہیے بلکہ سینہ پر ہونا چاہیے۔ از راہ کرم، حدیث کے حوالے سے جواب عنایت فرمائیں۔ اس کا کہنا تھا کہ شافعی ، مالکی اور حنبلی صحیح سنت طریقہ کی اتباع کرتے ہیں اور ہم (حنفی) غلط طریقے پر نماز ادا کرتے ہیں، اس کا کسی حدیث سے ثبوت نہیں ہے۔ براہ کرم، جواب دے کر اس مسئلہ کو جلد از جلد حل فرمادیں۔

    والسلام

    جواب نمبر: 581

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 573/م=273/م)

     

    نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا مسنون طریقہ ہے اور صحیح حدیث سے ثابت ہے: مصنف ابن ابی شیبہ میں صریح روایت مو جود ہے: *عن علقمہ بن وائل بن حجر عن ابیہ قال رایت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یضع یمینہ علی شمالہ تحت السرة* انتھی. کذا فی آثار السنن، اسی طرح حضرت علی -رضي الله عنه- سے مروی ہے: *السنة وضع الکف علی الکف فی الصلاة تحت السرة*رواہ ابو داؤد (اعلاء ا لسنن 2/166) ان کے علاوہ اور بھی روایات ہیں جن سے تحت السرة ہاتھ باندھنا ثابت ہے ، ن سب کی تفصیل کے لئے اور مختلف روایات کے درمیان تطبیق اور تحت السرة والی روایت کی ترجیح جاننے کے لئے دیکھئے اعلاء السنن وغیرہ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند