• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 158322

    عنوان: کیا مثل ثانی شروع ہوتے ہی عصر کی نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟

    سوال: کیا مثل ثانی شروع ہوتے ہی عصر کی نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟

    جواب نمبر: 15832201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 583-452/SN=5/1439

    احناف کے یہاں راجح قول یہ ہے کہ عصر کی نماز کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہرچیز کا سایہ (سایہٴ اصلی کے علاوہ) دو مثل ہوجائے؛ اس لیے عصر کی نماز اس وقت پڑھنی چاہیے؛ البتہ اگر کبھی سفر وغیرہ کی مجبوری ہوتو مثل ثانی شروع ہونے پر پڑھی جاسکتی ہے؛ کیونکہ ائمہٴ احناف میں سے صاحبین کا یہی قول ہے اور اس قول کی بھی بعض مشائخ کی طرف سے تصحیح کی گئی ہے، اس لیے بہ وقت ضرورت اس قول پر بھی عمل کرنے کی گنجائش ہے۔ درمختار مع الشامی میں ہے: ووقت الظہر من زوالہ ․․․ إلی بلوغ الظل مثلیہ (درمختار) وقال الشامي: ہذا ظاہر الروایة عن الإمام نہایة، وہو الصحیح بدائع ومحیط وینابیع، وہو المختار غیاثیة واختارہ الإمام المحبوبی ․․․ واختارہ أصحاب المتون، وارتضاہ الشارحون، فقول الطحاوی وبقولہما نأخذ لا یدل علی أنہ المذہب․․․ وقد قال فی البحر: لا یعدل عن قول الإمام إلی قولہما أو قول أحدہما إلا لضرورة الخ (درمختار مع الشامي: ۲/ ۱۴، ۱۵، ط: زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند