United Kingdom

سوال # 4337

میرا سوال علماء کے ہدیہ کے متعلق ہے (جس کو مغرب میں مسلمان امام اور عالم کی اجرت اورمعاوضہ کہتے ہیں)۔ میں انگلینڈ میں اکاؤنٹینٹ کی حیثیت سے کام کرتا ہوں (اس لیے میں جانتاہوں کہ لوگ میرے علاقہ میں کتنا پیسہ رکھتے ہیں) ۔ امام یہاں کم سے کم ۱۵۰/ سے ۱۷۵/پونڈ، اور ۲۰۰/ سے ۲۰۵/پونڈ کے حساب سے دئے جاتے ہیں۔ اس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ وہ حکومت سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں اس لیے ہم زیادہ کیوں ادا کریں۔ برائے کرم اس نظریہ پر رائے زنی کریں۔ دوسرے کیا وظیفہ یا اجرت بطورایک لفظ کے ہدیہ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟ ان دنوں لوگ یہاں پر مدرسہ کے طلباء کے ایک سال کے حافظ اورعالم کورس کے لیے، ۸۰/ سے ۱۰۰/پونڈ تک کے کفیل بننے پر تیار ہیں۔ بلاشبہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہ پورے مدرسہ کے اخراجات ادا کرتے ہیں۔ دو تین لوگ تو مدرسہ بھی چلارہے ہوں گے جن کا سالانہ بجٹ ۰۰۰،۰۰۰۰،۲/روپیہ سالانہ ہوگا (۲۰۰۰۰/پاؤنڈ)۔ لیکن جب یہ طلباء اپنا عالم کا کورس مکمل کرتے ہیں ، تو پورا شہر، گاؤں اور وہ محلہ ان کواس ملک کی متوسط تنخواہ ادا نہیں کرتے ہیں (اگر چہ ان کو اس سے زیادہ ادا کرنا چاہیے) ۔ میرے خیال میں ایک امام مسجد کو ایک سال میں ۲۵۰۰۰/پونڈ ملنا چاہیے۔ کیا ہم صرف صلہ لینے کے لیے ایک طالب علم کی کفالت کرکے نہ کہ پوری ذمہ داری لے کرکے ،محض اپنی خواہشات کی اتباع نہیں کررہے ہیں؟ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان کو صحیح رقم ملتی ہے، اگر نہیں تو کس کے کندھے پریہ گناہ ہوگا؟ یہ سب پوری امت کوکہاں لے جائے گا؟ کیا ہم آنے والی نسل کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر آپ کے والدکاروباری آدمی ہوں تبھی مدرسہ جانا بصورت دیگر اس کو بھول جانا۔

Published on: Jul 1, 2008

جواب # 4337

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 811=846/ د


 


(۱) علماء کرام اور ائمہ مساجد نے اپنا اصل سرمایہ توکل و قناعت کو بنایا ہے اوریہی ہمارے اسلاف کا طرہ امتیاز رہا ہے اسی لیے تنخواہ کی زیادتی کے لیے وہ از خود کوشاں بھی نہ ہوئے۔ لہذا جو حضرات علماء کرام یا ائمہ مساجد توکل و قناعت کا طریقہ اختیار کرکے قلیل مقدار تنخواہ پر گذارہ کررہے ہیں اور ان کی زندگی عسرت میں بسر ہورہی ہے اوردوسرا کوئی ذریعہ آمدنی ان کے پاس نہیں ہے ۔ایسے حضرات کے لیے اہل خیر لوگوں کو یا ذمہ داران مساجد و مدارس کو خاص توجہ سے کام لینا چاہیے خواہ اضافہ تنخواہ کے ذریعہ یا ہدایا و تحائف کے ذریعہ۔


(۲) خدمات دینیہ کی اجرت و تنخواہ کو ہدیہ کے نام سے تعبیر کرنا محض خدمات دینیہ کے اکرام کے لیے ہے۔


(۳) اگر وہ طلبہ خود باحیثیت ہیں یا ان کے والدین ان کی دینی تعلیم کا خرچ برداشت کرسکتے ہیں تو ایسے طلباء کوزکوة و صدقات کی رقم سے وظیفہ قبول کرنا ناجائز ہے اور غیر زکوة و صدقات سے بھی وظیفہ لینا اچھا نہیں ہے کیوں کہ علوم دینیہ (حافظ بننا یا عالم بننا) نیکی کے کام ہیں اپنی ذاتی رقم سے کرنا ہی برکت و ثواب کا باعث بنے گا ورنہ ثواب سے محرومی رہے گی۔


(۴) نمبر ۱ میں اس کا جواب آگیا۔


(۵) اخلاص تو ہر عمل کی روح ہے اس کا پیدا کرنا ضروری ہے۔


(۶) اس کا جواب بھی ۱ میں آگیا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات