india

سوال # 155373

کیا فرماتے ہیں علماء اور مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں زید ایک مسجد میں امامت کرتا ہے اور اپنے ساتھ اپنے اہل وعیال کو رکھنا چاہتا ہے ۔ جنکی رہائش کا انتظام مسجد کی انتظامیہ کے ذمہ ہے اور وہ انتظامیہ زید کے لیے ایک مکان کا انتظام کر تی ہے لیکن وہ مکان مسجد کے نیچے بنے ہوئے تہ خانہ کے شکل میں ہے جس میں مسجد کے استنجاء و بیت الخلاء ایک طرف بنے ہوئے ہیں۔ لہٰذا جب زید کے اہل و عیال وہاں رہیں گے تو اس کا ایک مستقل نظام بنایا جائے گا مع پردے کے لیکن مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ کیا مسجد کے نیچے اہل و عیال کو رکھنا جائز ہو گا کہ نہیں؟
برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ کا حل بتا کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

Published on: Nov 19, 2017

جواب # 155373

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:67-63/D=2/1439



چونکہ مسجد شرعی اوپر سے نیچے تک یعنی عرش سے تحت الثری تک مسجد ہوتی ہے، اور اس کے ہرحصے کا ادب واحترام مسجد کی طرح ضروری ہے، فیملی کے ساتھ رہنے میں مسجد کا ادب واحترام فوت ہوجائے گا، اس لیے صورتِ مسئولہ میں زید کے لیے مع اہل وعیال مسجد کے تہ خانے میں رہائش اختیار کرنا جائز نہیں ہوگا: وکرہ تحریمًا الوطء فوقہ والبول والتغوط لأنہ مسجد إلی عنان السماء الدر وفي الرد: قولہ ”إلی عنان السماء“ بفتح العین، وکذا إلی تحت الثری کما في البیري عن الإسبیجابي․



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات