عبادات - طہارت

Pakistan

سوال # 504

فتوی428/ج کے حوالے سے عرض ہے کہ اگر گیس کا ایسا مسئلہ ہو کہ کبھی تو ٹھیک رہتا ہو اور کبھی بہت پریشانی ہو اور گیس کا روکے رکھنا دشوار ہو، تو کیا حکم ہوگا؟ اور ہم جماعت کے ساتھ نماز پابندی کرتے ہیں۔ لہٰذا، کیا اگر جماعت کے وقت یہ پریشانی ہو تو کیا ایک بار وضو کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں؟ کیا ہم خود کو اس صورت میں معذور سمجھیں؟ کبھی کبھی ہم بڑی مسجد یا بھیڑ میں ہوتے ہیں جہاں پہلے سے وضو کرکے آنا ہوتا ہے، جیسے جمعہ میں یا اجتماع وغیرہ میں ، یا کبھی جب عمرہ کرنے جاتے ہیں تو حرمین شریفین میں نماز سے پہلے بار بار وضو کرنا پڑتا ہے ،کبھی کبھی مغرب اور عشاء کے لیے ایک ساتھ وضو کرنا پڑتا ہے، لہٰذا ان پریشانیوں کی صورت میں کیا ہم ایک بار وضو کرکے نماز ادا کرسکتے ہیں؟براہ کرم، تمام صورتوں کا حکم لکھ دیں ۔نیز، جو اور شکلیں ہوسکتی ہوں ان کا حکم بھی بتادیں۔

Published on: May 28, 2007

جواب # 504

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوى: 337/ن=289/ن)


 


اگر یہ گیس کا مرض آپ کو ایسا ہے کہ نمازفرض کے پورے وقت میں اتنا وقت بھی اس بیماری سے خالی نہ ہوتا ہو کہ جس میں وضو کرکے فرض نماز ادا کرسکیں تو آپ معذور ہیں اور اس وقت تک آپ معذور رہیں گے جب تک یہ عذر نماز فرض کے پورے وقت میں کم ازکم ایک مرتبہ پیش آتا رہے: وصاحب عذر من بہ سلس أو استطلاق بطن أو انفلات ریح ... إن استوعب عذرہ تمام وقت صلاة مفروضة بأن لا یجد في جمیع وقتھا زمنا یتوضأ ویصّلي فیہ خالیا عن الحدث ... في حق الابتداء وفي البقاء کفی وجودہ في جزء من الوقت ولو مرّةً (در مختار: 1/504، ط زکریا دیوبند)


اور اگر آپ کے مذکورہ مرض کی یہ نوعیت نہ ہو تو آ پ معذور نہیں ہیں، آپ کو مذکورہ صورتِ حال میں چاہیے کہ آپ جماعت کے وقت سے کچھ ہی پہلے مسجد میں تشریف لے جائیں اور آخری صف میں شامل ہوں، اگر کبھی یہ عذر پیش آجائے تو فوراً وضو فرمالیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات