معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 160501

سوال: میرے بھائی صاحب نے شادی کے کئی سال بعد اُس نے گھر میں جو بھی خرچ کیا ہوا پیسہ مثلاً گھر کی تعمیر شادی وغیرہ میں جو کچھ پیسہ لگایا تھا وہ والد صاحب پر قرضہ ہے بول کر اُن کی جائیداد بیج کر لے لی کیایہ جائز ہے لیکن اس کے علاوہ والد صاحب کی جوجائیداد تھی اس میں دوسرے اولاد کا حصہ بھی ہونا چاہیے ۔آپ بتائیے ۔

Published on: Apr 28, 2018

جواب # 160501

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:840-787/M=8/1439



بھائی صاحب نے گھر کی تعمیر اور شادی وغیرہ میں جو روپیہ خرچ کیا وہ بطور قرض خرچ کیا اس پر بھائی صاحب کے پاس کیا ثبوت ہیں؟ کیا انھوں نے والد صاحب کو یا دیگر ورثہ کو خرچ کرتے وقت بتایا تھا کہ میں یہ قرض کے طور پر خرچ کررہا ہوں بعد میں والد صاحب کی جائیداد سے وصول کرلوں گا؟ اگر خرچ کے وقت قرض کی تصریح نہیں کی تھی تو یہ خرچ ان کی طرف سے تبرع سمجھا جائے گا اس کو وصول کرنا درست نہیں، والد صاحب اگر حیات ہیں تو وہ اپنی ملکیت کے مالک ومختار ہیں ابھی اولاد کا حصہ نہیں اور اگر والد صاحب وفات پاچکے ہیں تو ان کی ملکیت میں جو جائیدادیں ہیں ان سب میں سبھی اولاد اور شرعی ورثہ کا حصہ ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات