• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 602775

    عنوان:

    ایك بیوی دو لڑكے اور تین لڑكیوں كے درمیان تقسیم وراثت

    سوال:

    ہمارے ابو کاانتقال ہوگیاہے ابھی پچھلے سال 27/03/2020ء کو، اور ہماری امی الحمد للہ حیات ہیں، ہمارے تین فلیٹ ہیں، ایک فلیٹ تین کمروں کا سیٹ ہے، ایک فلیٹ ہے جس میں میرا بھائی رہتاہے، ایک فلیٹ میرے ماں باپ نے میری بہن جو مجھ سے بڑی ہیں اس کو دیاتھا صرف رہنے کے لیے (فلیٹ میں نہ دہیز میں دیا تھا ، نہ اس کے نام کرا تھا، اور نہ ہی ورثے میں دیا تھا) کیوں کہ جس وقت میری بہن کی شادی ہورہی تھی ، اس وقت میرے والد صاحب نے کہا تھا کہ لڑکے کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہیں ہے تو ہم اس کو رہنے کے لیے جگہ دیں گے، اور پھر میری بہن کی شادی ہوگئی تھی ، جبھی سے وہ اسی فلیٹ میں رہ رہے ہیں، اور یہ تینوں فلیٹ میری امی کے نام پر ہیں، اور اب میری بڑی بہن اپنا ورثہ مانگ رہی ہیں، وہ ہم دونوں بھائیوں پر کیس کرنا چاہ رہی ہیں، تو میں آپ سے پوچھنا چاہتاہوں کہ یہ وراثت کس طرح سے تقسیم ہوگی؟ اور کتنے کتنے فیصد کا حصہ کس کا ہوگا؟ ہم کل پانچ بہن بھائی ہیں، تین بہنیں اور دو بھائی، میں آپ سے درخواست کرتاہوں کہ اس کا جواب ضرور دیں۔

    اگر میری بڑی بہن ہم دونوں بھائی پر کیس کرتی ہیں تو کیا کیس درج ہوگا؟ ہم دونوں بھائی کورٹ اور شریعت کے حساب سے کتنا کتنافیصد حصہ تقسیم کرسکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 602775

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:491-403/N=7/1442

     

    صورت مسئولہ میں اگر یہ تینوں فلیٹ آپ کے والد مرحوم کی ملکیت تھے اور رجسٹری میں آپ کی والدہ کا نام کسی مصلحت سے محض کاغذی طور پر درج کرایا گیا تھا اور آپ کے والد مرحوم کے ماں، باپ، دادا، دادی اور نانی کا انتقال مرحوم سے پہلے ہی ہوگیا تھا، یعنی: آپ کے والد مرحوم کی وفات پر اُن کے شرعی وارث صرف آپ کی والدہ، آپ دو بھائی اور تین بہنیں ہیں تو مرحوم کا سارا ترکہ (بہ شمول: سوال میں مذکور تینوں فلیٹ) ۸/ حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے۲، ۲/ حصے آپ کو اور آپ کے بھائی کو اور ایک، ایک حصہ آپ کی والدہ اور تینوں بہنوں کو ملے گا۔

    تخریج کا نقشہ حسب ذیل ہے:

    مسئلہ۸

    زوجة=1

    ابن=2

    ابن=2

    بنت=1

    بنت=1

    بنت=1

    قال اللّٰہ تعالی: ﴿فإن کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم﴾ الآیة (سورة النساء، رقم الآیة: ۱۲)۔

    وقال تعالی أیضاً:﴿یوصیکم اللّٰہ في أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین﴾(المصدر السابق، رقم الآیة: ۱۱)۔

    وعن ابن عباس قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ”ألحقوا الفرائض بأھلھا، فما بقي فھو لأولی رجل ذکر“، متفق علیہ (مشکاة المصابیح، باب الفرائض، الفصل الأول، ص: ۲۶۳، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔

    فیفرض للزوجة فصاعداً الثمن مع ولد إلخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الفرائض، ۱۰:۵۱۱، ۵۱۲)۔

    ثم العصبات بأنفسھم أربعة أصناف: جزء المیت ثم أصلہ ثم جزء أبیہ ثم جزء جدہ ویقدم الأقرب فالأقرب منھم بھذا الترتیب، فیقدم جزء المیت کالابن ثم ابنہ وإن سفل إلخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الفرائض، فصل فی العصبات، ۱۰: ۵۱۸)۔

    ویصیر عصبة بغیرہ البنات بالابن إلخ (تنویر الأبصار مع الدر والرد، کتاب الفرائض، فصل فی العصبات، ۱۰: ۵۲۲)

    (۲):آپ کی بڑی بہن، آپ دونوں بھائیوں پر کیا کیس کرنا چاہتی ہے؟ اس کی تفصیل معلوم ہونی چاہیے، پھر کیس کرنے کا حکم شرعی لکھا جاسکتا ہے۔ باقی کیس درج ہونے نہ ہونے کی بات آپ کورٹ سے معلوم کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند