عبادات - حج وعمرہ

india

سوال # 145319

اگر بیوی حج میں ہے تو اپنی خواہش کس طرح پوری کرے؟ کیا بیوی کے ہاتھ سے پانی نکلوانا جائز ہے؟

Published on: Nov 13, 2016

جواب # 145319

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 016-042/N=2/1438



 



(۱): میاں بیوی دونوں حالت احرام میں صبر سے کام لیں اور مکمل طور پر احرام ختم ہوجانے کے بعد ، یعنی: حلق وغیرہ کے بعد طواف زیارت سے فارغ ہوکر دونوں اپنی ضرورت پوری کریں۔



(۲): اگر میاں بیوی دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک حالت احرام میں ہو تو شہوت کے ساتھ بوسہ لینا، چھونا یا مشت زنی کرنا یا کرانا وغیرہ سب ناجائز ہے اور اگر کسی نے حالت احرام میں ان میں سے کوئی کام کیا تو اس پر کفارے کے طور پر دم واجب ہوگا؛ البتہ حج فاسد نہ ہوگا؛ اس لیے جب تک دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک حالت احرام میں رہے ،شہوت کے تمام کاموں سے پرہیز کیا جائے، اور جب احرام ختم ہوجائے تو شوہر اور بیوی دونوں باہم جنسی ضرورت پوری کریں، اس سے پہلے نہیں۔ (أو قبل) عطف علی ”حلق“ ( أو لمس بشھوة أنزل أو لا)فی الأصح أو استمنی بکفہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحج، باب الجنایات، ۳: ۵۸۷، : مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:”أو قبل الخ“:حاصلہ أن دواعی الجماع کالمعانقة والمباشرة الفاحشة الجماع فیما دون الفرج والتقبیل واللمس بشھوة موجبة للدم أنزل أو لا قبل الوقوف أو بعدہ ولا تفسد حجہ شییٴ منہ کما فی اللباب الخِ قولہ:”فی الأصح“: لم أر من صرح بتصحیحہ، وکأنہ أخذہ من التصریح بالإطلاق فی المبسوط والھدایة والبدائع وشرح المجمع وغیرھا کما فی اللباب ورجحہ فی البحر بأن الدواعي محرمة لأجل الإحرام مطلقاً فیجب الدم مطلقاً الخ (رد المحتار)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات