Pakistan

سوال # 150253

مجھے موثر دعا کے آداب بتائیں۔ شکریہ

Published on: Apr 6, 2017

جواب # 150253

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 685-627/Sd=7/1438



امام غزالی رحمہ اللہ نے احیاء علوم الدین میں دعاء کے دس آداب شمار کرائے ہیں:



(۱) دعاء کے لیے خاص اوقات کی رعایت کرنا مثلا: جمعہ کے دن یا رمضان کے مہینے میں یا رات کے آخری حصہ میں یا فرض نمازوں کے بعد وغیرہ وغیرہ۔



(۲) خاص احوال کا لحاظ رکھنا۔



(۳) دعاء میں قبلہ رخ ہونا اور دونوں ہاتھ اٹھانا۔



(۴) درمیانی آواز میں دعا مانگنا۔



(۵)دعاء میں بے جا تکلفات سے بچنا۔



(۶)عاجزی، مسکنت اور خوف و امید کی کیفیت کے ساتھ دعاء مانگنا۔



(۷)دعاء کی قبولیت کا یقین کرنا۔



 (۸)دعاء میں خوب اصرار کرنا اور ایک دعاء کو تین بار مانگنا۔



(۹) دعاء کو اللہ تعالی کی حمد و ثناء سے شروع کرنا۔



(۱۰)دعاء میں ندامت اور اللہ تعالی کی طرف مکمل توجہ کا ہونا۔



 آداب الدعاء وہی عشرة:الأول أن یترصد لدعائہ الأوقات الشریفة کیوم عرفة من السنة ورمضان من الأشہر ویوم الجمعة من الأسبوع ووقت السحر من ساعات اللیل ۔۔۔۔الثانی أن یغتنم الأحوال الشریفة۔۔۔۔۔۔الثالث أن یدعو مستقبل القبلة ویرفع یدیہ بحیث یری بیاض إبطیہ۔۔۔الرابع: خفض الصوت بین المخافتة والجہر۔۔الخامس أن لا یتکلف السجع فی الدعاء فإن حال الداعی ینبغی أن یکون حال متضرع والتکلف لا یناسبہ قال صلی اللہ علیہ وسلم سیکون قوم یعتدون فی الدعاء وقد قال عز وجل ادعوا ربکم تضرعا وخفیة إنہ لا یحب المعتدین ۔۔۔۔السادس التضرع والخشوع والرغبة والرہبة قال اللہ تعالی إنہم کانوا یسارعون فی الخیرات ویدعوننا رغبا ورہبا وقال عز وجل ادعوا ربکم تضرعا وخفیة وقال صلی اللہ علیہ وسلم إذا أحب اللہ عبدا ابتلاہ حتی یسمع تضرعہ ۔۔۔السابع: أن یجزم الدعاء ویوقن بالإجابة ویصدق رجائہ فیہ ۔۔الثامن أن یلح فی الدعاء ویکررہ ثلاثا قال ابن مسعودکان صلی اللہ علیہ وسلم إذا دعا دعا ثلاثا وإذا سأل سأل ثلاثا ۔۔۔۔التاسع أن یفتتح الدعاء بذکر اللہ عز وجل فلا یبدأ بالسوٴال ۔۔۔العاشر وہو الأدب الباطن وہو الأصل فی الإجابة التوبة ورد المظالم والإقبال علی اللہ عز وجل بکنہ الہمة فذلک ہو السبب القریب فی الإجابة ۔۔۔( إحیاء علوم الدین 1 / 312 وما بعدہا ط مصطفی الحلبی )



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات