• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 64944

    عنوان: مسجد کے تہ خانے میں مدرسہ چلانا اور رہائش اختیار کرنا؟

    سوال: مسجد بنی ہے اوپر نماز ہوتی ہے نیچے تہ خانہ ہے ، ایک آدمی نے مقامی لوگوں سے اجازت لے کر دو سال تک کے لیے مسجد کے نیچے تہ خانے میں مدرسہ کھولا اور طالب علموں کے لیے رہائش بھی ، تین چار سال میں آدھا مدرسہ تو نکال لیا ، لیکن رہائش گاہ آج بھی بیس سال تک ہورہی ہے تو کیا ایسی رہائش گاہ جائز ہے؟

    جواب نمبر: 6494401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 578-473/D=8/1437 مسجد تحت الثری سے عنان سماء تک مسجد ہی ہوتی ہے، تہ خانہ پر بھی اوپر کی منزل کی طرح مسجد کے احکام جاری ہوں گے، اور شرعی مسجد کے کسی حصہ کو کرایہ پر دینا جائز نہیں؛ لہٰذا شرعی مسجد کے تہ خانہ میں اجرت پر مدرسہ چلانا اورطلبہ کو مستقل طور پر وہاں پر رہائش اختیار کرنا درست نہیں ہے، ولا یجوز أخذ الأجرة منہ ولا أن یجعل شیئا منہ مستغلاً ولا سکنی․ ”بزازیہ“ (الدر المختار: ج۴ ص۳۵۸، ط: سعید کراچی)(وکرہ تحریمًا الوطء فوقہ والبول والتغوط؛ لأنہ مسجد إلی عنان السماء وکذا إلی تحت الثری․ (الدر مع الرد: ۱/ ۶۵۶)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند