• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 589

    عنوان:

    کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کہیں دعوت ہوتی ہے اور ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ وہ شخص رشوت لیتا ہے، تو کیا اس کے یہاں جانا جائز ہے؟ (2) کیا غیر مسلم کے یہاں کھانا کھانا جائز ہے؟ یا وہ لوگ دیوالی وغیرہ پر جو مٹھائی لاتے ہیں اس کا کھانا جائز ہے؟ اگر بلاتے ہیں تو منع کرنا تو صحیح نہیں، کھانے کو دیں تو بھی منع کرنا صحیح نہیں، کیا کرنا چاہیے؟ (3) کیا غیر مسلم کے نام کے آگے بھائی لگانا جائز ہے؟ جیسے ساتھ کام کرنے والے کہتے ہیں ذاکر بھائی، تو کیا ہم بھی انھیں مثلاً اشوک بھائی کہہ سکتے ہیں؟

    سوال:

     (1) کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کہیں دعوت ہوتی ہے اور ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ وہ شخص رشوت لیتا ہے، تو کیا اس کے یہاں جانا جائز ہے؟

    (2) کیا غیر مسلم کے یہاں کھانا کھانا جائز ہے؟ یا وہ لوگ دیوالی وغیرہ پر جو مٹھائی لاتے ہیں اس کا کھانا جائز ہے؟ اگر بلاتے ہیں تو منع کرنا تو صحیح نہیں، کھانے کو دیں تو بھی منع کرنا صحیح نہیں، کیا کرنا چاہیے؟

    (3) کیا غیر مسلم کے نام کے آگے بھائی لگانا جائز ہے؟ جیسے ساتھ کام کرنے والے کہتے ہیں ذاکر بھائی، تو کیا ہم بھی انھیں مثلاً اشوک بھائی کہہ سکتے ہیں؟

    والسلام

    جواب نمبر: 589

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 350/ن=339/ن)

     

    (1) اگر یہ معلوم نہ ہو کہ وہ دعوت حلال کمائی سے کر رہا ہے تو اس کے یہاں دعوت کھانے سے حکمت و مصلحت کے ساتھ بچ جانا چاہئے۔ آکل الرباء وکاسب الحرام أھدی إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لا یقبل ولا یأکل مالم یخبرہ أن ذلك المال أصلہ حلال ورثہ أو استقرضہ و إن کان غالب مالہ حلال لا بأس بقبو ل ہدیتہ و الأکل منها (عالمگیری :5/43، زکریا دیوبند)

    (2) اگر کوئی غیر مسلم حلال کمائی سے اپنی خوشی سے کھانے کی یا کوئی دوسری چیز پیش کرے تو اس کا استعمال جائز ہے بشر طیکہ وہ بت یا دیوی دیوتاؤں کا چڑھاوا نہ ہو اور پاک ہو۔

    (3) جی ہاں کہہ سکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند