• >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 155145

    عنوان: شراب کو سٹور کے نام پہ بیچنا

    سوال: صورتِحال : اگر کاروبار میں گاہگ ، مُلک اور کاروباری مدمقابل کافر ہیں۔ کاروبار سُپر سٹور کا ہے اور اُس ملک میں شراب سُپر سٹور میں معمول کا حصہ ہے ۔ یعنی شراب کا حصہ کمانے کے لئیے نہیں رکھا گیا بلکہ اُوپر بیان کردہ معاشرے اور حالات کے مدِنظر گاہگ کو اپنی دُکان سے مُنسلک رکھنے کے لئیے رکھا گیا ہے ۔ مسئلہ نمبر ۱: جس قیمت پر شراب خریدی گئی اُسی قیمت پر بیچ دی، ایسی صورت میں راہنُمائی فرمائیں۔ مسئلہ نمبر ۲: دوسری صورت کاروبار میں شراب والا حصہ میرا نہیں ایک غیر مُسلم کا ہے ، وہی اُس کے نفع نُقصان کا مالک ہے ۔ مارکیٹ میں گاہگ کو مُنسلک رکھنے کے لئے اُس شراب کوسٹور کے نام پہ بیچی جا رہی ہے ۔ ایسی صورت میں راہنُمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 155145

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:193-152/SN=7/1439

    شراب ”ام الخبائث“ ہے، مذہب اسلام میں شراب ناپاک اور قطعاً حرام ہے، حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے والے، پلانے والے، بنانے والے، بیچنے والے سب پر لعنت فرمائی ہے؛ اس لیے ایک مسلمان کے لیے خود یا اپنے کسی کارندے (وکیل) کے ذریعے شراب فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، خواہ اصل قیمت پر ہی بیچی جائے، نیز شراب کا ”سپر اسٹور“ میں معمول کا حصہ ہونا یا ملک غیرمسلموں کا ہونا ایک مسلمان کے لیے شراب بیچنے کے لیے وجہِ جواز نہیں بن سکتا۔ لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في الخمر عشرة: عاصرہا ومعتصرہا وشارہا وحاملہا والمحمولة إلیہا وساقیہا وبائعہا وآکل ثمنہا والمشتري لہا والمشتراة لہ (ترمذي: رقم: ۱۲۹۵)

    (۲) مسئلہ نمبر کے تحت جو صورت آپ نے تحریر فرمائی اس میں یہ واضح کیا جائے کہ ”سپر اسٹور“ کے مالک آپ ہیں یا کوئی اور؟ غیرمسلم کاروبار میں آپ کے ساتھ کسی درجے میں شریک ہے یا وہ بالکل الگ اور مستقل شخص ہے؟ آپ ہی کی دکان کے کسی حصے پر شراب فروخت کرے گا یا اس کا اپنا مستقل گوشہ ہوگا جس کا مالک یا کرایہ دار وہی ہوگا؟ شراب کمپنی سے لانے اسی طرح گاہک کے ہاتھ فروخت کرنے کی کاغذی کاروائی اور بل وغیرہ اس غیرمسلم کے نام پر بنے گا یا آپ کے نام پر؟ ان امور کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کیا جائے پھر ان شاء اللہ حکم شرعی تحریر کیا جائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند