• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 26991

    عنوان: سوال یہ ہے کہ ایم سی ایکس(MCX) نام کی ایک کمپنی ہے جو آن لائن سامانوں کا بزنس کرتی ہے، جس میں سونا، چاندی ، خام تیل وغیرہ کے سودے آن لائن ہوتے ہیں ، جتنا مال خریدنا ہو اس کے دس فیصد پیسے جمع کرانے پر اپنے نام چڑھ جاتے ہیں، اس کو جب چاہیں بیچ سکتے ہیں، اور اس مال کو گھر منگانا ہو تو پورے پیسے بینک میں جمع کرانے پر وہ مال گھر آجائے گا۔کیا اس طرح کا آن لائن سامانوں کا بزنس کرسکتے ہیں؟ اس کو وعدہ ٴ کاربار (فیوچر ٹریڈنگ) کہتے ہیں؟

    سوال: سوال یہ ہے کہ ایم سی ایکس(MCX) نام کی ایک کمپنی ہے جو آن لائن سامانوں کا بزنس کرتی ہے، جس میں سونا، چاندی ، خام تیل وغیرہ کے سودے آن لائن ہوتے ہیں ، جتنا مال خریدنا ہو اس کے دس فیصد پیسے جمع کرانے پر اپنے نام چڑھ جاتے ہیں، اس کو جب چاہیں بیچ سکتے ہیں، اور اس مال کو گھر منگانا ہو تو پورے پیسے بینک میں جمع کرانے پر وہ مال گھر آجائے گا۔کیا اس طرح کا آن لائن سامانوں کا بزنس کرسکتے ہیں؟ اس کو وعدہ ٴ کاربار (فیوچر ٹریڈنگ) کہتے ہیں؟

    جواب نمبر: 26991

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 1739=1315-11/1431

    آن لائن سامان خریدکر دس فیصد رقم جمع کرکے بقیہ رقم بعد میں ادا کرنا اور سامان گھر منگالینا درست ہے۔ لیکن سامان بغیر گھر منگائے یا اس پر قبضہ کیے بغیر دوسرے کے ہاتھ فروخت کرنا جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبل القبض بیع کرنے سے منع فرمایا ہے، لہٰذا دوسرے کے ہاتھ فروخت کرنا جائز نہیں ہوا۔ اور اگر ادھار بکنگ ہو یعنی نقد کچھ بھی رقم نہ دی جائے تو یہ بیع الکالی بالکالی ہونے کی وجہ سے بالکلیہ ناجائز ہوئی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند