• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 2368

    عنوان:

    موجودہ صورت حال میں جب کہ دنیا کی تجارت کی بنیاد سود پر ہے ، ہر ملک سود میں ملوث ہے، میں چند سوالات کرنا چاہتا ہوں: (۱) میں اپنا ایکسپورٹ کا بزنس کیسے چلاؤں جب کہ اس میں سود میں ملوث ہونا پایا جاتا ہے؟ (۲) ٹیکس سے بچنے کے لیے کیا میں گورنمنٹ سے جھوٹ بول سکتا ہوں؟ (۳) کیا میں کار خریدنے کے لیے یا گھر بنانے کے لیے سودی لون لے سکتا ہوں؟

    سوال:

    موجودہ صورت حال میں جب کہ دنیا کی تجارت کی بنیاد سود پر ہے ، ہر ملک سود میں ملوث ہے، میں چند سوالات کرنا چاہتا ہوں:

    (۱) میں اپنا ایکسپورٹ کا بزنس کیسے چلاؤں جب کہ اس میں سود میں ملوث ہونا پایا جاتا ہے؟

    (۲) ٹیکس سے بچنے کے لیے کیا میں گورنمنٹ سے جھوٹ بول سکتا ہوں؟

    (۳) کیا میں کار خریدنے کے لیے یا گھر بنانے کے لیے سودی لون لے سکتا ہوں؟

    جواب نمبر: 2368

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 743/ ب= 685/ ب

     

    (۱) دین اسلام میں سود حرام ہے، قرآن کریم میں ہے: اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا (بقرہ) مسلمانوں پر لازم اور ضروری ہے کہ ہرایسے کاروبار، بزنس سے احتراز کرے جس میں سودی لین دین ہو اورحلال آمدنی کی فکر کرے۔ قرآن کریم میں ہے کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ البتہ جائز کاروبار میں لین دین کے دوران تھوڑی بہت سود کی آمیزش ہوجائے تو سودی رقم بلانیت ثواب صدقہ کردے اوراللہ سے توبہ کرے۔

    (۲) جھوٹ بولنا شرعاً ناجائز ہے اس لیے ٹیکس سے بچنے کے لیے حکومت سے جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے، البتہ بطور حیلہ گھما پھراکر بات کہنے کی گنجائش ہے۔ لیکن ہرشہری پر یہ اخلاقی فریضہ ہے کہ جائز ٹیکس حکومت کو ادا کرے تاکہ انسانوں کی ضروریات کا انتظام کرسکے۔

    (۳) شرعاً سودی لین دین حرام ہے اس لیے کار خریدنے کے لیے یا گھر بنانے کے لیے سودی لون لینا جائز نہیں ہے، البتہ اگر کار خریدنا یا گھر بنانا ضرورتِ شدیدہ کے تحت داخل ہو تو بقدر ضرورت لون لینے کی گنجائش ہے اور لی ہوئی رقم جلد از جلد ادا کرکے توبہ و استغفار کرلے۔ بہتر یہ ہے کہ بینک خود خریدکر اپنے منافع شامل کرکے آپ کے ہاتھ فروخت کردے اس شکل میں زائد رقم بینک کو دینا جائز ہوگا اور زائد رقم بھی ثمن کے تحت داخل ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند